کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: ٹال مٹول کرنے والے کی سزا کا بیان - اس علت کا بیان جس کی بنا پر مذکورہ شخص مذکورہ سزا کا مستحق ٹھہرتا ہے۔
حدیث نمبر: 5090
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَطْلُ الْغَنِيِّ ظُلْمٌ ، وَإِذَا أُتْبِعَ أَحَدُكُمْ عَلَى مَلِيءٍ فَلْيَتْبَعْ " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” خوشحال شخص کا (ادائیگی کرنے میں) ٹال مٹول کرنا ظلم ہے اور جب کسی شخص کو (اپنے مال کی وصولی کے لئے) کسی دوسرے شخص کے سپرد کیا جائے تو وہ اسے قبول کر لے۔ “