کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: - اس بات کا بیان کہ مدعى علیہ پر کیا لازم ہے جب مدعی کے پاس اپنے دعوے پر کوئی گواہی موجود نہ ہو۔
حدیث نمبر: 5083
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَوْ يُعْطَى النَّاسُ بِدَعْوَاهُمْ لادَّعَى النَّاسُ دِمَاءَ رِجَالٍ وَأَمْوَالَهُمْ ، وَلَكِنَّ الْيَمِينَ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ " .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” اگر لوگوں کو ان کے دعویٰ کی بنیاد پر دینا شروع کر دیا جائے تو لوگ دوسرے لوگوں کی جانوں اور مالوں کے بارے میں دعوی کرنے لگ جائیں گے۔ اس لئے جس شخص کے خلاف دعویٰ کیا گیا ہے اس پر قسم اٹھانا لازم ہے۔ “
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الدعوى / حدیث: 5083
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - المصدر نفسه: ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 5060»