کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: - اس علت (حکمت) کا بیان جس کی بنا پر اس حکم کا دیا جانا واقع ہوا۔
حدیث نمبر: 5081
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ مِنْ كِتَابِهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ الْكَوْسَجُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَيْفِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو مَعْبَدٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : لَمَّا بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ ، فَقَالَ : " إِنَّكَ سَتَأْتِي قَوْمًا أَهْلَ كِتَابٍ ، فَإِذَا جِئْتَهُمْ فَادْعُهُمْ إِلَى أَنْ يَشْهَدُوا أَنَّ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ، فَإِذَا أَطَاعُوا لَكَ بِذَلِكَ فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ اللَّهَ فَرَضَ عَلَيْهِمْ صَلَوَاتٍ خَمْسًا فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ ، فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوا لَكَ بِذَلِكَ فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلا فَرَضَ عَلَيْهِمْ صَدَقَةً تُؤْخَذُ مِنْ أَغْنِيَائِهِمْ فَتُرَدُّ عَلَى فُقَرَائِهِمْ ، فَإِنْ أَطَاعُوا لَكَ بِذَلِكَ فَإِيَّاكَ وَكَرَائِمَ أَمْوَالِهِمْ ، وَاتَّقِ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ ، فَإِنَّهُ لَيْسَ بَيْنَ اللَّهِ وَبَيْنَهُ حِجَابٌ " .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاذ کو یمن بھیجا تو آپ نے فرمایا تم اہل کتاب سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے پاس جا رہے ہو تم ان کے پاس جاؤ، تو اس بات کی دعوت دو کہ وہ اس بات کی گواہی دیں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور اگر وہ اس بارے میں تمہاری بات مان لیں، تو انہیں بتاؤ کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر روزانہ پانچ نمازیں فرض کی ہیں اس بارے میں بھی اگر تمہاری بات مان لیں، تو انہیں بتاؤ کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر زکوۃ فرض کی ہے جو ان کے خوشحال لوگوں سے وصول کی جائے گی اور ان کے غریب لوگوں کی طرف لوٹا دی جائے گی۔ اگر وہ اس بارے میں بھی تمہاری بات مان لیں، تو تم لوگوں کے عمدہ مال حاصل کرنے سے بچنا اور مظلوم کی بد دعا سے بچنا کیونکہ اللہ تعالیٰ کے اور اس کے درمیان کوئی حجاب نہیں ہوتا۔