کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: وقف کا بیان - وہ خبر جو ان لوگوں کے قول کو باطل کرتی ہے جنہوں نے وقف کے بعد اس کا بیچنا یا وراثت میں دینا جائز قرار دیا۔
حدیث نمبر: 4901
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، عَنْ بِشْرِ بْنِ الْمُفَضَّلِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ نَافِعٍ 2 ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : أَصَابَ عُمَرُ أَرْضًا بِخَيْبَرَ ، فَأَتَى فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَأْمَرَهُ ، فَقَالَ : إِنِّي أَصَبْتُ أَرْضًا بِخَيْبَرَ لَمْ أُصِبْ قَطُّ مَالا أَنْفَسَ عِنْدِي مِنْهُ ، فَمَا تَأْمُرُ فِيهَا ؟ فَقَالَ : " إِنْ شِئْتَ حَبَسْتَ أَصْلَهَا ، وَتَصَدَّقْتَ بِهَا عَلَى أَنَّهُ لا يُبَاعُ وَلا يُوهَبُ وَلا يُورَثُ ، فَتَصَدَّقْ بِهَا فِي الْفُقَرَاءِ ، وَفِي الْغُرَبَاءِ ، وَفِي الرِّقَابِ ، وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَابْنِ السَّبِيلِ ، وَفِي الضَّيْفِ ، لا جُنَاحَ عَلَى مَنْ وَلِيَهَا أَنْ يَأْكُلَ مِنْهَا بِالْمَعْرُوفِ ، أَوْ يُطْعِمَ صَدِيقًا غَيْرَ مُتَمَوِّلٍ فِيهِ " ، قَالَ : وَقَالَ مُحَمَّدٌ : غَيْرَ مُتَأَثِّلٍ مَالا .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو خیبر میں زمین ملی۔ وہ اس کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشورہ کیا۔ انہوں نے عرض کی: مجھے خیبر میں ایسی زمین ملی ہے مجھے کبھی ایسی زمین نہیں ملی ہے جو میرے نزدیک اس سے زیادہ عمدہ ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بارے میں مجھے کیا ہدایت کرتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر تم چاہو تو اصل زمین کو اپنے پاس رکھو اور اس کے (پھل اور آمدن کو) صدقہ کر دو۔ اس شرط پر کہ اس زمین کو صدقہ نہیں کیا جائے گا۔ اسے ہبہ نہیں کیا جائے گا اور اسے وراثت میں منتقل نہیں کیا جائے گا۔ تم (اس کے پھل کو) غریبوں میں، مسافروں میں، غلاموں میں، اللہ کی راہ میں (جہاد پر جانے والوں میں)، مسافروں میں اور مہمانوں میں خرچ کرو، جو شخص اس کا نگران ہو۔ اس پر کوئی گناہ نہیں ہو گا۔ اگر وہ مناسب طور پر اس میں سے خود کھا لیتا ہے یا کسی دوست کو کھلا دیتا ہے جبکہ وہ مال جمع کرنے والا نہ ہو۔ یہاں محمد نامی راوی نے ایک لفظ مختلف نقل کیا ہے۔