کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: لقطہ (گم شدہ چیز) کا بیان - وہ سبب جو سابقہ خطاب میں مضمر (چھپا) ہوا تھا۔
حدیث نمبر: 4895
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الرَّبِيعِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَنِ اللُّقَطَةِ ، فَقَالَ : " عَرِّفْهَا سَنَةً ، فَإِنْ لَمْ تَعْرِفْ فَاعْرِفْ عِفَاصَهَا وَوِكَاءَهَا ، ثُمَّ كُلْهَا ، فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا فَأَدِّهَا إِلَيْهِ " .
سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے گمشدہ ملنے والی چیز کے بارے میں دریافت کیا گیا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ایک سال تک اس کا اعلان کرو اگر اس کے مالک کا پتہ نہیں چلتا تو پھر اس کی تھیلی اور اس کے منہ پر باندھی جانے والی ڈوری کو یاد رکھو پھر تم اسے خود استعمال کر لو اگر اس کا مالک آ گیا (تو اس کی مانند رقم) اسے دے دینا۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب اللقطة / حدیث: 4895
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1497): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 4875»