کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: لقطہ (گم شدہ چیز) کا بیان - وہ خبر جو اس پر دلالت کرتی ہے کہ لقطہ اگر برسوں بعد بھی مل جائے تو وہ مالک ہی کی ہے، ملتقط پر لازم ہے کہ اصل یا قیمت واپس کرے چاہے وہ اسے خرچ کر چکا ہو۔
حدیث نمبر: 4894
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنِ الْتَقَطَ لُقَطَةً فَلْيُشْهِدْ ذَوِي عَدْلٍ ، ثُمَّ لا يَكْتُمُ ، وَلا يُغَيِّرُ ، فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا فَهُوَ أَحَقُّ بِهَا ، وَإِلا فَهُوَ مَالُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ " ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : أَضْمَرَ فِيهِ إِنْ لَمْ يَجِئْ صَاحِبُهَا ، فَهُوَ مَالُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ .
سیدنا عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: جو شخص گمشدہ ملنے والی چیز کو اٹھا لیتا ہے۔ وہ دو عادل لوگوں کو گواہ بنا لے پھر وہ کوئی بات چھپائے نہیں اور کسی چیز کو تبدیل نہ کرے اگر اس چیز کا مالک آ جاتا ہے تو وہ اس کا زیادہ حقدار ہو گا۔ ورنہ یہ اللہ تعالیٰ کا وہ مال شمار ہو گا جسے وہ چاہتا ہے دے دیتا ہے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس میں یہ بات پوشیدہ ہے اگر اس کا مالک نہیں آتا تو وہ پھر اللہ تعالیٰ کا مال ہو گا جسے وہ چاہتا ہے دے دیتا ہے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب اللقطة / حدیث: 4894
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1503). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 4874»