کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: لقطہ (گم شدہ چیز) کا بیان - ایک لفظ جس نے بعض علماء کو ہمارے بیان کردہ مفہوم کے برخلاف وہم میں ڈال دیا۔
حدیث نمبر: 4893
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ يَزِيدَ مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، " أَنَّ رَجُلا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَنْ ضَالَّةِ الإِبِلِ ، قَالَ : " مَا لَكَ وَلَهَا مَعَهَا سِقَاؤُهَا وَحِذَاؤُهَا ، فَدَعْهَا تَأْكُلُ الشَّجَرَ ، وَتَرِدُ الْمَاءَ حَتَّى يَأْتِيَهَا بَاغِيهَا " ، وَسَأَلَهُ عَنْ ضَالَّةِ الْغَنَمِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هِيَ لَكَ أَوْ لأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ " ، ثُمَّ سَأَلَهُ عَنِ اللُّقَطَةِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اعْرِفْ عَدَدَهَا وَوِعَاءَهَا وَوِكَاءَهَا ، فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا ، فَعَرَفَ عَدَدَهَا وَوِعَاءَهَا وَوِكَاءَهَا ، فَأَعْطِهَا إِيَّاهُ ، وَإِلا فَهِيَ لَكَ " .
سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں۔ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے گمشدہ اونٹ کے بارے میں دریافت کیا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا اس کے ساتھ کیا واسطہ ہے۔ اس کا پیٹ اس کے ساتھ ہے۔ اس کے پاؤں اس کے ساتھ ہیں۔ تم اسے چھوڑ دو۔ وہ خود ہی درخت کے پتے کھا لے گا اور پانی تک پہنچ جائے گا۔ یہاں تک کہ اسے تلاش کرنے والا شخص اس تک پہنچ جائے گا۔ اس شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے گمشدہ بکری کے بارے میں دریافت کیا۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ یا تمہیں ملے گی یا تمہارے کسی بھائی کو ملے گی یا بھیڑیے کو مل جائے گی۔ پھر اس شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے گمشدہ ملنے والی چیز کے بارے میں دریافت کیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اس کی تعداد اس کی تھیلی اور اس کے منہ پر باندھی جانے والی ڈوری کی شناخت کو یاد رکھو اگر اس کا مالک آ جائے اور وہ اس کی تعداد تھیلی اور ڈوری کے بارے میں نشانی بتا دے تو وہ تم اس کے سپرد کر دو ورنہ وہ تمہاری ہوئی۔