کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: لقطہ (گم شدہ چیز) کا بیان - بیان کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان «عرفها سنة» کسی حد (شرعی سزا) کے معنی میں نہیں۔
حدیث نمبر: 4891
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ ، قَالَ : خَرَجْتُ مَعَ زَيْدِ بْنِ صُوحَانَ ، وَسَلْمَانَ بْنِ رَبِيعَةَ ، فَالْتَقَطْتُ سَوْطًا ، فَقَالا : دَعْهُ ، فَقُلْتُ : وَاللَّهِ لا أَدَعُهُ تَأْكُلُهُ السِّبَاعُ ، لأَسْتَمْتِعَنَّ بِهِ ، فَقَدِمْتُ الْمَدِينَةَ ، فَلَقِيتُ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ ، فَقَالَ : أَحْسَنْتَ إِنِّي أَصَبْتُ صُرَّةً فِيهَا دَنَانِيرُ ، فَأَتَيْتُ بِهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَدَّثْتُهُ ، فَقَالَ : " عَرِّفْهَا حَوْلا " ، فَلَمْ أَجِدْ أَحَدًا ، فَعَرَّفْتُهَا ثَلاثَةَ أَحْوَالٍ ، ثُمَّ أَتَيْتُهُ ، فَقَالَ : " احْفَظْ وِعَاءَهَا وَوِكَاءَهَا وَعَدَدَهَا ، فَإِنْ جَاءَ أَحَدٌ يُخْبِرُكَ ، فَادْفَعْهَا ، وَإِلا فَاسْتَمْتِعْ بِهَا " .
سوید بن غفلہ بیان کرتے ہیں، میں زید بن صوحان اور سلیمان بن ربیعہ کے ہمراہ روانہ ہوا میں نے (راستے میں) گمشدہ کوڑا اٹھا لیا۔ تو ان دونوں نے کہا: کہ تم اسے چھوڑ دو۔ میں نے کہا: اللہ کی قسم میں اسے اس لیے نہیں چھوڑوں گا تاکہ درندے اسے کھا جائیں۔ میں اس کے ذریعے فائدہ حاصل کروں گا۔ میں مدینہ منورہ آ گیا۔ میری ملاقات سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے ہوئی تو انہوں نے فرمایا: تم نے ٹھیک کیا ہے مجھے ایک تھیلی ملی تھی۔ جس میں دینار تھے میں وہ لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بتایا: تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم ایک سال تک اس کا اعلان کرو پھر مجھے کوئی شخص نہیں ملا میں نے تین سال تک اس کا اعلان کیا۔ پھر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اس تھیلی کے منہ پر بندھی ہوئی ڈوری اور اس میں موجود دیناروں کی تعداد کو یاد رکھنا اگر کوئی شخص آ کر تمہیں اس بارے میں بتا دے تو یہ اس کے حوالے کر دینا۔ ورنہ تم اس سے نفع حاصل کر لو۔