کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب - بیان کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان «ضالة المسلم» تمام گم شدہ چیزوں پر نہیں بلکہ بعض پر دلالت کرتا ہے۔
حدیث نمبر: 4888
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَهْطٌ مِنْ بَنِي عَامِرٍ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا نَجِدُ فِي الطَّرِيقِ هَوَامِي مِنَ الإِبِلِ ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ضَالَّةُ الْمُسْلِمِ حَرَقُ النَّارِ " .
مطرف اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بنو عامر سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگ حاضر ہوئے۔ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں راستے میں اونٹ ملے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مسلمانوں کی گم شدہ چیز جہنم کا شعلہ ہے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب اللقطة / حدیث: 4888
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - المصدر نفسه. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط البخاري
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 4868»
حدیث نمبر: 4889
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ يَزِيدَ مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَأَلَهُ عَنِ اللُّقَطَةِ ، فَقَالَ : " اعْرِفْ عِفَاصَهَا وَوِكَاءَهَا ، ثُمَّ عَرِّفْهَا سَنَةً ، فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا وَإِلا فَشَأْنَكَ بِهَا " ، قَالَ : فَضَالَّةُ الْغَنَمِ ، قَالَ : " لَكَ أَوْ لأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ " ، قَالَ : فَضَالَّةُ الإِبِلِ ، قَالَ : " مَا لَكَ ، وَلَهَا مَعَهَا سِقَاؤُهَا ، وَحِذَاؤُهَا تَرِدُ الْمَاءَ ، وَتَأْكُلُ الشَّجَرَ حَتَّى يَلْقَاهَا رَبُّهَا " ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : الأَمْرُ بِاسْتِعْمَالِ الانْتِفَاعِ بِاللُّقَطَةِ بَعْدَ تَعْرِيفِ سَنَةٍ أَضْمَرَ فِيهِ اعْتِقَادَ الْقَلْبِ عَلَى رَدِّهَا عَلَى صَاحِبِهَا إِذَا جَاءَ وَعَرَّفَ عِفَاصَهَا وَوِكَاءَهَا " .
سیدنا زید بن خالد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں۔ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی چیز کے بارے میں دریافت کیا جو کہیں گری ہوئی ملتی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اس کی تھیلی اور اس تھیلی کے منہ پر بندھی ہوئی چیز کی شناخت رکھو پھر ایک سال تک اس کا اعلان کرتے رہو۔ اگر اس کا مالک آ جاتا ہے تو ٹھیک ہے۔ ورنہ تم اسے استعمال کرو۔ اس شخص نے دریافت کیا گمشدہ بکری (کا کیا حکم ہو گا) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ تمہیں ملے گی یا تمہارے کسی بھائی کو ملے گی یا بھیڑیا لے جائے گا۔ اس شخص نے دریافت کیا گم شدہ اونٹ (کا کیا حکم ہے) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تمہارا اس کے ساتھ کیا واسطہ ہے اس کا پیٹ اس کے ساتھ ہے۔ اس کے پاؤں اس کے پاس ہیں۔ وہ خود ہی پانی تک پہنچ جائے گا اور درخت سے کچھ کھا پی لے گا۔ یہاں تک کہ اس کا مالک اس تک پہنچ جائے گا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ایک سال تک اعلان کرنے کے بعد گمشدہ ملنے والی چیز سے نفع حاصل کرنے کا حکم اس صورت میں ہے جب آدمی کے دل میں اس بات کا اعتقاد ہو کہ وہ اس چیز کے مالک کے آنے پر وہ چیز اس مالک کو واپس کر دے گا اور اس شخص نے اس کی تھیلی اور تھیلی کے منہ پر باندھی جانے والی چیز کی پہچان رکھی ہو۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب اللقطة / حدیث: 4889
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1496): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 4869»