کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: - ذکر اس بیان کا کہ اگر عورت اپنی نذر پوری کرنے سے پہلے مر جائے تو اس کے بعض رشتہ دار اس کی نذر پوری کریں، خواہ نذر روزے کی ہو
حدیث نمبر: 4396
أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْدَانَ الْحَرَّانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ امْرَأَةً جَاءَتْ إِِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : إِِنَّ أُمِّي مَاتَتْ وَعَلَيْهَا صَوْمٌ مِنْ نَذْرٍ " . فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَكُنْتِ قَاضِيَةً عَنْ أُمِّكِ دَيْنًا لَوْ كَانَ عَلَيْهَا ؟ " قَالَتْ : نَعَمْ . قَالَ : " فَصُومِي عَنْ أُمِّكِ " .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک خاتون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اس نے عرض کی: میری والدہ کا انتقال ہو گیا ہے ان کے ذمے نذر کا ایک روزہ لازم تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون سے فرمایا: کیا تم اپنی والدہ کے اس قرض کو ادا کر دیتی جو ان کے ذمے لازم ہوتا؟ اس خاتون نے جواب دیا: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر تم اپنی والدہ کی طرف سے روزہ بھی رکھ لو۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب النذور / حدیث: 4396
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن لغيره
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 4380»