کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: - ذکر اس خبر کا جو اس بات کی دلیل ہے کہ نذر ماننے والے کو اپنی نذر پوری کرنے کی اجازت ہے اگر وہ حرام نہ ہو
حدیث نمبر: 4386
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو تُمَيْلَةَ يَحْيَى بْنُ وَاضِحٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَعْضِ مَغَازِيهِ ، فَجَاءَتْ جَارِيَةٌ سَوْدَاءُ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِِنِّي نَذَرْتُ إِِنْ رَدَّكَ اللَّهُ سَالِمًا أَنْ أَضْرِبَ عَلَى رَأْسِكَ بِالدُّفِّ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِِنْ نَذَرْتِ فَافْعَلِي ، وَإِِلا فَلا " . قَالَتْ : إِِنِّي كُنْتُ نَذَرْتُ ، فَقَعَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَضَرَبَتْ بِالدُّفِّ .
عبداللہ بن بریدہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کسی غزوے سے واپس آ رہے تھے ایک سیاہ فام لڑکی آئی اور اس نے یہ عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میں نے یہ نذر مانی تھی کہ اگر اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلامت واپس لے آیا تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب دف بجاؤں گی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم نے نذر مانی تھی، تو ایسا کر لو، ورنہ نہ کرو اس نے عرض کی: میں نے نذر مانی تھی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہوئے اور اس نے دف بجائی۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب النذور / حدیث: 4386
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «التعليق على الروضة النديَّة» (2/ 177 - 178)، «الصحيحة» (2261). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح رجال ثقات رجال الصحيح
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 4371»