کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: - ذکر اس حکم کا کہ جو شخص حج پیدل کرنے کی نذر مانے اسے سواری کرنے کی اجازت ہے بشرطیکہ وہ کفارہ ادا کرے
حدیث نمبر: 4384
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَى آلِ طَلْحَةَ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِِنَّ أُخْتِي جَعَلَتْ عَلَى نَفْسِهَا أَنْ تَحُجَّ مَاشِيَةً ؟ قَالَ : " فَمُرْهَا فَلْتَرْكَبْ وَلْتُكَفِّرْ " . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : يُشْبِهُ أَنْ تَكُونَ هَذِهِ جَعَلَتْ عَلَى نَفْسِهَا أَنْ تَحُجَّ مَاشِيَةً بِالْيَمِينِ ، أَوِ النَّذْرِ ، لا كَفَّارَةَ فِيهِ .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی: میری بہن نے اپنے ذمے یہ نذر مانی ہے وہ پیدل حج کے لیے جائے گی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اسے کہو کہ وہ سوار ہو جائے اور کفارہ دیدے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس بات کا احتمال موجود ہے اس عورت نے پیدل چل کر حج کے لیے جانے کی یا تو قسم اٹھائی تھی یا نذر مانی تھی تاہم نذر میں کفارہ نہیں ہوتا۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب النذور / حدیث: 4384
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني ضعيف - «ابن ماجه» (2134). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 4369»