کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: ولاء کا بیان - اس خبر کا بیان جو ان لوگوں کے قول کو باطل کرتی ہے جنہوں نے کہا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بریرہ کی مکاتبت میں مدد کی تھی بغیر خریدے یا آزاد کیے
حدیث نمبر: 4326
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ بَرِيرَةَ جَاءَتْ تَسْتَعِينُ عَائِشَةَ ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ : إِِنْ أَحَبَّ أَهْلُكِ أَنْ أَصُبَّ لَهُمْ عَنْكِ صَبَّةً ، فَأُعْتِقَكِ فَعَلْتُ ، وَيَكُونُ لِي وَلاؤُكِ ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ بَرِيرَةُ لأَهْلِهَا ، فَقَالُوا لا ، إِِلا أَنْ يَكُونَ الْوَلاءُ لَنَا . قَالَ يَحْيَى : فَزَعَمَتْ عَمْرَةُ أَنَّ عَائِشَةَ ذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " لا يَمْنَعُكِ ذَلِكَ اشْتَرِيهَا وَأَعْتِقِيهَا ، فَإِِنَّمَا الْوَلاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ " . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : فَهَذَا آخِرُ جَوَامِعِ أَنْوَاعِ الأَمْرِ عَنِ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرْنَاهَا بِفُصُولِهَا وَأَنْوَاعِ تَقَاسِيمِهَا ، وَقَدْ بَقِيَ مِنَ الأَوَامِرِ أَحَادِيثُ بَدَّدْنَاهَا فِي سَائِرِ الأَقْسَامِ ، لأَنَّ تِلْكَ الْمَوَاضِعَ بِهَا أَشْبَهُ ، كَمَا بَدَّدْنَا مِنْهَا فِي الأَوَامِرِ لِلْبُغْيَةِ فِي الْقَصْدِ فِيهَا ، وَإِِنَّمَا نُمْلِي بَعْدَ هَذَا الْقِسْمَ الثَّانِي الَّذِي هِيَ النَّوَاهِي بِتَفْصِيلِهَا وَتَقْسِيمِهَا عَلَى حَسَبِ مَا أَمْلَيْنَا الأَوَامِرَ إِِنْ قَضَى اللَّهُ ذَلِكَ وَشَاءَهُ ، جَعَلَنَا اللَّهُ مِمَّنْ أَغْضَى فِي الْحُكْمِ فِي دِينِ اللَّهِ عَنْ أَهْوَاءِ الْمُتَكَلِّفِينَ ، وَلَمْ يُعَرِّجْ فِي النَّوَازِلِ عَلَى آرَاءِ الْمُقَلِّدِينَ مِنَ الأَهْوَاءِ الْمَعْكُوسَةِ وَالآرَاءِ الْمَنْحُوسَةِ ، إِِنَّهُ خَيْرُ مَسْئُولٍ .
عمرہ بنت عبدالرحمن بیان کرتی ہیں: بریرہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مدد مانگنے کے لیے آئی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اگر تمہارے مالکان چاہیں تو میں انہیں ایک ہی مرتبہ میں ادائیگی کر دیتی ہوں اور پھر میں تمہیں آزاد کر دوں گی اور تمہاری ولاء کا حق مجھے حاصل ہو گا۔ بریرہ نے اپنے مالکان کے سامنے اس کا تذکرہ کیا تو انہوں نے کہا: جی نہیں ولاء کا حق ہمیں حاصل رہے گا۔ یحیی نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے عمرہ نامی خاتون نے یہ بات بیان کی ہے: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ چیز تمہیں اس بات سے نہ روکے، تم اسے خرید کر اسے آزاد کر دؤ، کیونکہ ولاء کا حق آزاد کرنے والے کو ملتا ہے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول عوامر کی مختلف اقسام کے مجموعے کا یہ آخری حصہ ہے ان اوامر کو ہم نے فصول اور ذیلی تقسیم کے تحت ذکر کیا ہے اب اوامر میں سے کچھ احادیث باقی رہ گئی ہیں، جنہیں ہم نے دیگر اقسام میں مختلف مقامات پر نقل کیا ہے کیونکہ وہ اس مقام کے ساتھ زیادہ مناسبت رکھتی ہیں جس طرح ہم نے ان میں سے کچھ احادیث کو اوامر کے تحت بھی نقل کیا ہے تاکہ اس بارے میں مقصد حاصل ہو جائے اس کے بعد ہم دوسری قسم املاء کروائیں گے جو نواہی سے تعلق رکھتی ہے ہم اسے مختلف فصلوں اور ذیلی تقسیم کے تحت ذکر کریں گے جس طرح ہم نے عوامر کو املا کروایا تھا اگر اللہ تعالیٰ نے یہ فیصلہ دیا اور یہ چاہا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان لوگوں میں شامل کرے جو اللہ کے دین کے بارے میں حکم بیان کرتے ہوئے تکلف کرنے والوں کی نفسانی خواہشات سے لاتعلق رہتے ہیں اور نئے پیش آمدہ مسائل میں الٹی خواہشات اور منحوس آراء کی پیروی کرنے والوں کی رائے کے مطابق نہیں چلتے ہیں بے شک وہ (یعنی اللہ تعالیٰ) سب سے بہتر مسئول ہے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب العتق / حدیث: 4326
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 4311»