کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: شریک کے آزاد کرنے کا بیان - اگر شریک نے اپنا حصہ آزاد کیا اور وہ تنگدست ہے تو باقی غلام پر کچھ لازم نہیں، اور جو حصہ آزاد ہوا وہ آزاد ہوگیا
حدیث نمبر: 4317
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُعَافَى الْعَابِدُ بِصَيْدَا ، حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَيْدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، وَعَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ أَعْتَقَ عَبْدًا وَلَهُ فِيهِ شَرِيكٌ وَلَهُ وَفَاءٌ فَهُوَ حُرٌّ ، وَيَضْمَنُ نَصِيبَ شُرَكَائِهِ بِقِيمَةِ عَدْلٍ لِمَا أَسَاءَ مُشَارَكَتَهُمْ ، وَلَيْسَ عَلَى الْعَبْدِ شَيْءٌ " . أَبُو مُعَيْدٍ هَذَا اسْمُهُ حَفْصُ بْنُ غَيْلانَ الرُّعَيْنِيُّ مِنْ ثِقَاتِ أَهْلِ الشَّامِ وَفُقَهَائِهِمْ .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” جو شخص کسی غلام کو آزاد کرتا ہے اور اس غلام میں اس کے (دوسرے) حصے دار بھی ہوں اور اس شخص کے پاس اتنا مال موجود ہو کہ وہ اس غلام کی پوری قیمت ادا کر سکتا ہو تو وہ غلام آزاد شمار ہو گا اور وہ شخص اپنے شراکت داروں کا حصہ مناسب قیمت کے حساب سے ادا کر دے گا اس وجہ سے کہ اس نے اپنے شراکت داروں کے ساتھ زیادتی کی ہے اور غلام پر کوئی ادائیگی لازم نہیں ہو گی۔ “ ابومعید نامی راوی کا نام حفص بن غلان رعینی ہے یہ اہل شام سے تعلق رکھنے والے ثقہ اور فقہیہ شخص ہیں۔