کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: شریک کے آزاد کرنے کا بیان - اگر کسی نے اپنا حصہ آزاد کیا اور وہ خود تنگدست ہے تو اس کا آزاد کرنا جائز ہے
حدیث نمبر: 4316
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ أَعْتَقَ شِرْكًا لَهُ فِي عَبْدٍ ، فَكَانَ لَهُ مَالٌ يَبْلُغُ ثَمَنَ الْعَبْدِ ، قُوِّمَ عَلَيْهِ قِيمَةَ الْعَدْلِ ، وَأَعْطَى شُرَكَاءَهُ حِصَصَهُمْ ، وَأَعْتَقَ عَلَيْهِ الْعَبْدُ ، وَإِِلا فَقَدْ عَتَقَ مِنْهُ مَا عَتَقَ " .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے، جو شخص کسی غلام میں اپنے حصے کو آزاد کر دے اور اس کے پاس اتنا مال موجود ہو جو غلام کی قیمت تک پہنچتا ہو تو اس غلام کی مناسب طور پر قیمت لگائی جائے گی اور وہ شخص اپنے شراکت داروں کو ان کا حصہ دیدے گا اور وہ غلام اس شخص کی طرف سے آزاد ہو جائے گا ورنہ اس غلام کا صرف اتنا ہی حصہ آزاد ہو گا جتنا اس نے آزاد کیا ہے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب العتق / حدیث: 4316
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الإرواء» (1522): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 4301»