کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: شریک کے آزاد کرنے کا بیان - جس نے مشترکہ غلام میں اپنا حصہ آزاد کیا اس کے حکم کا بیان
حدیث نمبر: 4315
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " أَيُّمَا مَمْلُوكٍ كَانَ بَيْنَ شُرَكَاءَ ، فَأَعْتَقَ أَحَدُهُمْ نَصِيبَهُ ، فَإِِنَّهُ يُقَوَّمُ فِي مَالِ الَّذِي أَعْتَقَ قِيمَةَ عَدْلٍ ، فَيُعْتَقُ إِِنْ بَلَغَ ذَلِكَ مَالُهُ " .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ” جو بھی غلام لوگوں کی مشترکہ ملکیت ہو اور ان میں سے کوئی ایک اپنے حصے کو آزاد کر دے تو جس نے اس کے حصے کو آزاد کیا ہے اس کے مال میں سے اس غلام کی مناسب سی قیمت لگائی جائے گی اور پھر اس غلام کو مکمل آزاد کر دیا جائے گا اگر اس (آزاد کرنے والے) کے پاس اتنا مال موجود ہو (جو غلام کی قیمت جتنا ہو) “
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب العتق / حدیث: 4315
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: م. * قال الناشر: هذا الحديث -بتبويبه- ساقط من «الأصل»، واستفدناه من «طبعة المؤسسة». فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 4299/م»