کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: - یہ فضیلت اسی وقت ہوتی ہے جب آزاد کرنے والا اور آزاد کیا جانے والا دونوں مسلمان ہوں
حدیث نمبر: 4309
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَحْمُودِ بْنِ عَدِيٍّ بِنَسَا ، قَالَ : حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ زَنْجُوَيْهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِي نَجِيحٍ السُّلَمِيِّ ، قَالَ : حَاصَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الطَّائِفَ ، وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " أَيُّمَا رَجُلٍ مُسْلِمٍ أَعْتَقَ رَجُلا مُسْلِمًا ، فَإِِنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلا جَاعِلٌ وِقَاءَ كُلِّ عَظْمٍ مِنْ عِظَامِ مُحَرِّرِهِ عَظْمًا مِنْ عِظَامِهِ مِنَ النَّارِ ، وَأَيُّمَا امْرَأَةٍ مَسْلَمَةٍ أَعْتَقَتِ امْرَأَةً مَسْلَمَةً ، فَإِِنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلا جَاعِلٌ وِقَاءَ كُلِّ عَظْمٍ مِنْ عِظَامِ مُحَرِّرِهَا عَظْمًا مِنْ عِظَامِهَا مِنَ النَّارِ " . قَالَ الشَّيْخُ : أَبُو نَجِيحٍ هُوَ عَمْرُو بْنُ عَبَسَةَ .
سیدنا ابونجیح سلیمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ طائف کا محاصرہ کیا ہوا تھا میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا: ” جو بھی مسلمان کسی مسلمان کو آزاد کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی ہر ایک ہڈی کے عوض میں آزاد کرنے والے کی ہر ایک ہڈی کو جہنم سے محفوظ کر دیتا ہے اور جو بھی مسلمان عورت کسی مسلمان عورت کو آزاد کرتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس آزاد ہونے والی کی ہر ہڈی کے عوض میں آزاد کرنے والی کی ہر ہڈی کو جہنم سے محفوظ کر دیتا ہے۔ “ شیخ بیان کرتے ہیں: ابونجیح کا نام عمرو بن عبسہ ہے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب العتق / حدیث: 4309
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (1756). تنبيه!! هذه الجملة [قَالَ الشَّيْخُ: «أَبُو نَجِيحٍ هُوَ عَمْرُو بْنُ عَبَسَةَ»] سقطت من «طبعة باوزير». - مدخل بيانات الشامله -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 4297»