کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: نفقہ کا بیان - اس خبر کا ذکر جو علم کی صنعت میں غیر ماہر کو یہ وہم دلاتا ہے کہ بیٹے کا مال باپ کا ہوتا ہے
حدیث نمبر: 4262
أَخْبَرَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ التَّاجِرُ بِمَرْوَ ، حَدَّثَنَا حُصَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى الْمَرْوَزِيُّ ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، أَنَّ رَجُلا أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخَاصِمُ أَبَاهُ فِي دَيْنٍ لَهُ عَلَيْهِ ، فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنْتَ وَمَالُكَ لأَبِيكَ " . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : مَعْنَاهُ أَنَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَجَرَ عَنْ مُعَامَلَتِهِ أَبَاهُ بِمَا يُعَامِلُ بِهِ الأَجْنَبِيِّينَ ، وَأَمْرَ بِبِرِّهِ ، وَالرِّفْقِ بِهِ فِي الْقَوْلِ وَالْفِعْلِ مَعًا إِِلَى أَنْ يَصِلَ إِِلَيْهِ مَالُهُ ، فَقَالَ لَهُ : أَنْتَ وَمَالُكَ لأَبِيكَ ، لا أَنَّ مَالَ الابْنِ يَمْلِكُهُ أَبُوهُ فِي حَيَاتِهِ عِنْ غَيْرِ طَيْبِ نَفْسٍ مِنَ الابْنِ بِهِ .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس کا اپنے والد کے ساتھ ایک قرض کے سلسلے میں جھگڑا چل رہا تھا جو اس نے اپنے والد سے لینا تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم اور تمہارا مال تمہارے باپ کا ہے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں): اس کا مطلب یہ ہے: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو اس بات پر ڈانٹا ہے اس نے اپنے والد کے ساتھ اس طرح کا رویہ اختیار کیا ہے جو رویہ اجنبی لوگوں کے ساتھ اختیار کیا جاتا ہے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے والد کے ساتھ بھلائی کرنے کا حکم دیا ہے اور اپنے والد کے ساتھ بات چیت اور طرز عمل میں نرمی اختیار کرنے کا حکم دیا ہے یہاں تک کہ آپ نے اس شخص کے مال کو اس کے والد کے مال کے ساتھ ملا دیا اور اس سے ارشاد فرمایا: تم اور تمہارا مال تمہارے باپ کا ہے اس سے یہ مراد ہے بیٹے کا باپ اپنے بیٹے کی زندگی میں ہی اس کے مال کا مالک بن جاتا ہے جب کہ بیٹے کی اس حوالے سے کوئی رضا مندی بھی نہ ہو۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الرضاع / حدیث: 4262
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح لغيره - وهو مكرر (411). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده ضعيف
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 4248»