کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: نفقہ کا بیان - اس بات کی اطلاع کہ عورت کے لیے جائز ہے کہ وہ اپنے شوہر کے علم کے بغیر اس کے مال سے اپنے بچوں اور اہل و عیال کے نفقہ کے لیے لے
حدیث نمبر: 4257
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : جَاءَتْ هِنْدُ بِنْتُ عُتْبَةَ إِِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَاللَّهِ مَا كَانَ عَلَى ظَهْرِ الأَرْضِ أَهْلُ خِبَاءٍ أَحَبَّ إِِلَيَّ مِنْ أَنْ يُذِلَّهُمُ اللَّهُ مِنْ أَهْلِ خِبَائِكَ ، وَمَا عَلَى ظَهْرِ الأَرْضِ أَهْلُ خِبَاءٍ أَحَبَّ إِِلَيَّ الْيَوْمَ أَنْ يُعِزَّهُمُ اللَّهُ مِنْ أَهْلِ خِبَائِكَ ، ثُمَّ قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ مُمْسِكٌ ، فَهَلْ عَلَيَّ مِنْ حَرَجٍ أَنْ أُنْفِقَ عَلَى عِيَالِهِ مِنْ مَالِهِ بِغَيْرِ إِِذْنِهِ ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا حَرَجَ عَلَيْكِ أَنْ تُنْفِقِي بِالْمَعْرُوفِ عَلَيْهِمْ " .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ہند بنت عتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اس نے عرض کی: یا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم! اللہ کی قسم! (پہلے ہی یہ حالت تھی) کہ روئے زمین پر کوئی بھی گھرانہ میرے نزدیک آپ کے گھرانے سے زیادہ ناپسندیدہ نہیں تھا اور اب روئے زمین پر کوئی بھی گھرانہ میرے نزدیک آپ کے گھرانے سے زیادہ پسندیدہ نہیں ہے۔ پھر اس نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! ابوسفیان ایک کنجوس آدمی ہے تو کیا مجھے کوئی گناہ ہو گا اگر میں اس کے مال میں سے اس کی اجازت کے بغیر اس کے بال بچوں پر خرچ کروں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم مناسب طریقے سے ان پر خرچ کرتی ہو تو تمہیں کوئی گناہ نہیں ہو گا۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الرضاع / حدیث: 4257
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث صحيح
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 4243»