کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: نفقہ کا بیان - اس بات کی صفت کا ذکر کہ ابو عمرو بن حفص نے فاطمہ بنت قیس کو اس کے نفقہ کے لیے کیا بھیجا، حالانکہ اس پر یہ واجب نہ تھا
حدیث نمبر: 4254
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي الْجَهْمِ ، قَالَ : سَمِعْتُ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ ، تَقُولُ : أَرْسَلَ إِِلَيَّ زَوْجِي أَبُو عَمْرِو بْنُ حَفْصِ بْنِ الْمُغِيرَةِ عَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ بِطَلاقِي ، وَأَرْسَلَ إِِلَيَّ بِخَمْسَةِ آصُعٍ مِنْ شَعِيرٍ وَخَمْسَةِ آصُعٍ مِنْ تَمْرٍ ، فَقُلْتُ : مَالِي نَفَقَةٌ إِِلا هَذَا ، وَلا اعْتَدُّ فِي مَنْزِلِكُمْ ؟ قَالَ : لا . قَالَتْ : فَشَدَدْتُ عَلَيَّ ثِيَابِي ، ثُمَّ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ : " كَمْ طَلَّقَكِ ؟ " قُلْتُ : ثَلاثَةً . قَالَ : " صَدَقَ ، لَيْسَ لَكِ نَفَقَةٌ . وَاعْتَدِّي فِي بَيْتِ ابْنِ عَمِّكِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ ، فَإِِنَّهُ ضَرِيرُ الْبَصَرِ ، تَلْقِينَ ثَوْبَكِ عِنْدَهُ ، فَإِِذَا انْقَضَتْ عِدَّتُكِ فَآذِنِينِي " . قَالَتْ : فَخَطَبَنِي خُطَّابٌ مِنْهُمْ : مُعَاوِيَةُ وَأَبُو جَهْمٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِِنَّ مُعَاوِيَةَ خَفِيفُ الْحَاذِ ، وَأَبُو جَهْمٍ فِيهِ شِدَّةٌ عَلَى النِّسَاءِ أَوْ يَضْرِبُ النِّسَاءَ أَوْ نَحْوَ هَذَا ، وَلَكِنْ عَلَيْكِ بِأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ " .
سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میرے شوہر ابوعمرو بن حفص نے مجھے طلاق بھجوا دی انہوں نے ” جو “ کے پانچ صاع مجھے بھجوائے اور کھجور کے پانچ صاع بھی بھجوائے میں نے کہا: مجھے صرف یہی خرچ ملے گا؟ میں تمہارے گھر میں عدت نہیں گزاروں گی انہوں نے کہا: جی نہیں۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے چادر لی اور میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: اس نے تمہیں کتنی طلاقیں دیں میں نے جواب دیا: تین۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر اس شخص نے سچ کہا: ہے تمہیں خرچ نہیں ملے گا۔ تم اپنے چچازاد ابن ام مکتوم کے گھر میں عدت بسر کرو کیونکہ وہ نابینا ہیں وہاں تم اپنی چادر اتار سکتی ہو جب تمہاری عدت گزر جائے تو تم مجھے اطلاع دے دینا۔ سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: متعدد لوگوں نے مجھے نکاح کا پیغام بھیجا ان میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوجہم رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: معاویہ غریب آدمی ہے اور ابوجہم خواتین کے ساتھ سخت رویہ رکھتا ہے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) خواتین کو مارتا ہے یا اس کی مانند کچھ اور الفاظ ہیں البتہ تم اسامہ بن زید کے ساتھ شادی کر لو۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الرضاع / حدیث: 4254
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الإرواء» (6/ 209 - 210): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 4240»