کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: نفقہ کا بیان - اس وجہ کا ذکر جس کی بنا پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فاطمہ بنت قیس کو ابن ام مکتوم کے گھر عدت گزارنے کا حکم دیا
حدیث نمبر: 4253
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَتْنِي فَاطِمَةُ بِنْتُ قَيْسٍ ، أَنَّ أَبَا عَمْرِو بْنَ حَفْصٍ طَلَّقَهَا ثَلاثًا وَأَمَرَ لَهَا بِنَفَقَةٍ وَاسْتَقَلَّتْهَا ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ نَحْوَ الْيَمَنِ ، فَانْطَلَقَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ فِي نَفَرٍ مِنْ بَنِي مَخْزُومٍ إِِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِِنَّ أَبَا عَمْرِو بْنَ حَفْصٍ طَلَّقَ فَاطِمَةَ ثَلاثًا ، فَهَلْ لَهَا نَفَقَةٌ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَ لَهَا نَفَقَةٌ وَلا سُكْنَى " . فَأَرْسَلَ إِِلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَنْتَقِلَ إِِلَى أُمِّ شَرِيكٍ ، ثُمَّ أَرْسَلَ إِِلَيْهَا : " أَنَّ أُمَّ شَرِيكٍ يَأْتِيهَا الْمُهَاجِرُونَ الأَوَّلُونَ ، فَانْتَقِلِي إِِلَى بَيْتِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ ، فَإِِنَّكِ إِِنْ وَضَعْتِ خِمَارَكِ لَمْ يَرَكِ " ، وَأَرْسَلَ إِِلَيْهَا لا تَسْبِقِينِي بِنَفْسِكِ ، فَزَوَّجَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ .
سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: سیدنا ابوعمرو بن حفص رضی اللہ عنہ نے انہیں تین طلاقیں دے دیں اور انہیں خرچ دینے کی ہدایت کر دی، لیکن اس خاتون نے اس خرچ کو تھوڑا شمار کیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان صاحب کو یمن کی طرف بھیجا تھا۔ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ بنو مخزوم سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگوں کے ہمراہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت سیدہ میمونہ کے گھر میں موجود تھے انہوں نے عرض کی: اب عمرو بن حفص نے فاطمہ کو تین طلاقیں دے دی ہیں کیا؟ اسے خرچ ملے گا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے خرچ اور رہائش نہیں ملے گی پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون کو یہ پیغام بھجوایا کہ وہ سیدہ ام شریک رضی اللہ عنہا کے ہاں منتقل ہو جائے پھر آپ نے اس خاتون کو پیغام بھجوایا کہ ام شریک کے ہاں مہاجرین اولین آتے جاتے رہتے ہیں تم ابن ام مکتوم کے گھر میں منتقل ہو جاؤ کیونکہ وہاں اگر تم اپنی چادر اتار دو گی تو وہ تمہیں نہیں دیکھ سکے گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون کو پیغام بھجوایا تم اپنی ذات کے حوالے سے مجھ سے آگے نہ نکلنا (یعنی عدت گزرنے کے بعد شادی کرنے سے پہلے مجھ سے مشورہ لے لینا) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون کی شادی سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے کر دی۔