کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: نفقہ کا بیان - اس بات کا ذکر کہ تین طلاق والی عورت کے لیے اس کے شوہر پر رہائش اور نفقہ واجب نہیں
حدیث نمبر: 4250
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ ، " أَنَّ زَوْجَهَا طَلَّقَهَا ثَلاثًا ، فَلَمْ يَجْعَلْ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفَقَةً وَلا سُكْنَى " . قَالَ : فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لإِِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيَّ ، فَقَالَ : قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : لا نَدَعُ كِتَابَ رَبِّنَا وَلا سُنةَ نَبِيِّهِ لِقَوْلِ امْرَأَةٍ ، لَهَا النَّفَقَةُ وَالسُّكْنَى .
سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ان کے شوہر نے انہیں تین طلاقیں دے دیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں خرچ اور رہائش کا حق نہیں دیا۔ راوی کہتے ہیں: میں نے اس روایت کا تذکرہ ابراہیم نخعی سے کیا تو انہوں نے بتایا: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ یہ فرماتے ہیں۔ ” ہم اپنے پروردگار کی کتاب اور اپنے نبی کی سنت (کا حکم) کسی عورت کے بیان کی وجہ سے نہیں چھوڑیں گے ایسی عورت کو خرچ اور رہائش ملے گی۔ “
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الرضاع / حدیث: 4250
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1980 و 1983): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 4236»