کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: نفقہ کا بیان - اس بات کا ذکر کہ اللہ جل وعلا ہر اس چیز پر اجر لکھتا ہے جو آدمی اپنے اہل و عیال پر خرچ کرتا ہے، حتیٰ کہ لقمہ جو وہ اپنی بیوی کے منہ تک اٹھاتا ہے
حدیث نمبر: 4249
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : مَرِضْتُ بِمَكَّةَ عَامَ الْفَتْحِ مَرَضًا أَشْفَيْتُ مِنْهُ عَلَى الْمَوْتِ ، فَعَادَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ لَهُ : أَيْ رَسُولَ اللَّهِ ، إِِنَّ لِي مَالا كَثِيرًا وَلَيْسَ يَرِثُنِي إِِلا ابْنَتِي أَفَأُوصِي بِثُلُثَيْ مَالِي ؟ قَالَ : " لا " . قُلْتُ : الشَّطْرُ ؟ قَالَ : " لا " . قُلْتُ : الثُّلُثُ ؟ قَالَ : " الثُّلُثُ وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ ، إِِنَّكَ إِِنْ تَتْرُكَ وَرَثَتَكَ أَغْنِيَاءَ خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَتْرُكَهُمْ عَالَةَ يَتَكَفَّفُونَ النَّاسَ ، إِِنَّكَ لَنْ تُنْفِقَ نَفَقَةً تُرِيدُ بِهَا وَجْهَ اللَّهِ إِِلا أُجِرْتَ عَلَيْهَا ، حَتَّى اللُّقْمَةَ تَرْفَعُهَا إِِلَى فِي امْرَأَتِكَ " . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أُخَلَّفُ عَنْ هِجْرَتِي ؟ قَالَ : " إِِنَّكَ لَنْ تُخَلَّفَ بَعْدِي فَتَعْمَلَ عَمَلا تُرِيدُ بِهِ وَجْهَ اللَّهِ ، إِِلا ازْدَدْتَ بِهِ رِفْعَةً وَدَرَجَةً ، وَلَعَلَّكَ أَنْ تُخَلَّفَ بَعْدِي حَتَّى يَنْتَفِعَ أَقْوَامٌ بِكَ وَيُضَرَّ بِكَ آخَرُونَ ، اللَّهُمَّ امْضِ لأَصْحَابِي هِجْرَتَهُمْ وَلا تَرُدَّهُمْ عَلَى أَعْقَابِهِمْ " لَكِنِ الْبَائِسُ سَعْدُ بْنُ خَوْلَةَ يَرْثِي لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنْ مَاتَ بِمَكَّةَ .
عامر بن سعد اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: فتح مکہ کے سال میں مکہ میں شدید بیمار ہو گیا یہاں تک کہ موت کے کنارے تک پہنچ گیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کرنے کے لیے تشریف لائے میں نے آپ کی خدمت میں عرض کی یا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم! میرے پاس بہت زیادہ مال ہے اور میری وارث صرف میری بیٹی ہے تو کیا میں اپنے دو تہائی مال کے بارے میں وصیت کر دوں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نہیں میں نے دریافت کیا: نصف؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی نہیں۔ میں نے عرض کی: ایک تہائی؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک تہائی کر دو ویسے ایک تہائی بھی زیادہ ہے۔ اگر تم اپنے ورثاء کو خوشحال چھوڑ کر جاتے ہو تو یہ اس سے زیادہ بہتر ہے تم انہیں تنگ دست چھوڑ کر جاؤ اور وہ لوگوں سے مانگتے پھریں تم اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لیے جو کچھ بھی خرچ کرو گے اس کا تمہیں اجر ملے گا یہاں تک کہ جو لقمہ تم اپنی بیوی کے منہ کی طرف بڑھاؤ گے (اس کا بھی اجر ملے گا) میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کیا میں اپنی ہجرت سے پیچھے کر دیا جاؤں گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک تم میرے بعد بھی زندہ رہو گے تو اس کے نتیجے میں تمہاری قدر و منزلت اور درجے میں اضافہ ہو گا۔ ہو سکتا ہے تم میرے بعد زندہ رہو یہاں تک کہ بہت سے لوگ تم سے نفع حاصل کریں اور دوسرے لوگوں کو تم سے نقصان بھی ہو۔ اے اللہ! میرے ساتھیوں کی ہجرت کو برقرار رکھنا اور انہیں ایڑیوں کے بل واپس نہ لوٹا دینا البتہ سعد بن خولہ پر افسوس ہے۔ (راوی کہتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر افسوس کا اظہار اس لیے کیا کیونکہ ان کا انتقال مکہ میں ہو گیا تھا۔