کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: نفقہ کا بیان - اس بات کا بیان کہ عورت کو اس کے شوہر اور اہل و عیال پر خرچ کرنے سے دو اجر ملتے ہیں: صدقہ کا اجر اور قرابت کا اجر
حدیث نمبر: 4248
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَازِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الْمُصْطَلِقِ ، عَنِ ابْنِ أَخِي زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنْ زَيْنَبَ ، قَالَتْ : خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ ، تَصَدَّقْنَ وَلَوْ مِنْ حُلِيِّكُنَّ ، فَإِِنَّكُنَّ أَكْثَرُ أَهْلِ جَهَنَّمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . قَالَتْ : وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ رَجُلا خَفِيفَ ذَاتِ الْيَدِ ، فَقَالَتْ : سَلْ لِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَتُجْزِئُ عَنِّي مِنَ الصَّدَقَةِ النَّفَقَةُ عَلَى زَوْجِي وَأَيْتَامٍ فِي حِجْرِي ؟ . قَالَتْ : وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أُلْقِيَتْ عَلَيْهِ الْمَهَابَةُ ، فَقَالَ : لا بَلْ سَلِيهِ أَنْتِ . قَالَتْ : فَانْطَلَقْتُ ، فَإِِذَا عَلَى الْبَابِ امْرَأَةٌ مِنَ الأَنْصَارِ حَاجَتُهَا حَاجَتِي اسْمُهَا زَيْنَبُ ، قَالَتْ : فَخَرَجَ عَلَيْنَا بِلالٌ ، فَقُلْتُ لَهُ : سَلْ لَنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَتُجْزِئُ عَنَّا مِنَ الصَّدَقَةِ النَّفَقَةُ عَلَى أَزْوَاجِنَا وَأَيْتَامٍ فِي حُجُورِنَا ؟ قَالَتْ : فَدَخَلَ بِلالٌ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، عَلَى الْبَابِ زَيْنَبُ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَيُّ الزَّيَانِبِ ؟ " قَالَ : زَيْنَبُ امْرَأَةُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَزَيْنَبُ امْرَأَةٌ مِنَ الأَنْصَارِ تَسْأَلانِ عَنِ النَّفَقَةِ عَلَى أَزْوَاجِهِمَا وَأَيْتَامٍ فِي حُجُورِهِمَا : أَيُجْزِئُ ذَلِكَ عَنْهُمَا مِنَ الصَّدَقَةِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : نَعَمْ " لَهُمَا أَجْرَانِ : أَجْرُ الْقَرَابَةِ ، وَأَجْرُ الصَّدَقَةِ " .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی اہلیہ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم (خواتین) کو خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: اے خواتین کے گروہ تم صدقہ کیا کرو خواہ اپنے زیور ہی کرو، کیونکہ اہل جہنم میں اکثریت قیامت کے دن تمہاری ہو گی وہ خاتون بیان کرتی ہیں: سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کی آمدن بہت کم تھی اس خاتون نے (سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے) کہا: آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے میرے بارے میں دریافت کیجئے کہ اگر میں اپنے شوہر پر اور اپنے زیر پرورش یتیم بچوں پر خرچ کرتی ہوں تو کیا ایسا کرنا میری طرف سے جائز ہو گا وہ خاتون بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا رعب بہت زیادہ تھا سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: نہیں، بلکہ تم خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کرو وہ خاتون کہتی ہیں میں (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں) آئی تو وہاں دروازے پر انصار سے تعلق رکھنے والی ایک اور عورت بھی موجود تھی اس کا بھی وہی مسئلہ تھا جو میرا تھا اس عورت کا نام بھی زینب تھا سیدنا بلال رضی اللہ عنہ باہر تشریف لائے میں نے ان سے کہا: آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہمارے لیے مسئلہ دریافت کریں کہ ہم اپنے شوہروں اور اپنے زیر پرورش یتیم بچوں پر جو خرچ کرتے ہیں کیا ہماری طرف سے یہ صدقہ کرنے کی جگہ کافی ہو گا وہ خاتون بیان کرتی ہیں: سیدنا بلال رضی اللہ عنہ اندر گئے انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! دروازے پر زینب موجود ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کون سی زینب؟ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے بتایا: سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کی اہلیہ زینب اور انصار سے تعلق رکھنے والی زینب ان دونوں نے اپنے شوہروں پر اور اپنے زیر پرورش یتیم بچوں پر خرچ کرنے کے بارے میں دریافت کیا ہے: کیا یہ ان کی طرف سے صدقہ کی جگہ کافی ہو گا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں ان دونوں کو دگنا اجر ملے گا رشتہ داری کے حقوق کی پاسداری کا اجر اور صدقہ کرنے کا اجر۔