کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: - اس بات کا ذکر جو رضاعت کی مذمت کو اس سے دور کرتا ہے جو اس میں کوتاہی کرتا ہے
حدیث نمبر: 4230
أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ الْحَجَّاجِ الأَسْلَمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا يُذْهِبُ عَنِّي مَذِمَّةَ الرَّضَاعِ ؟ قَالَ : " الْغُرَّةُ : الْعَبْدُ أَوِ الأَمَةُ " .
حجاج بن حجاج اسلمی اپنے والد کے حوالے سے نقل کرتے ہیں: انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میں دودھ پینے کے حق کو کیسے ادا کر سکتا ہوں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک پیشانی یعنی غلام یا کنیز (کو معاوضے کے طور پر ادا کر کے تم اس کا حق ادا کر سکتے ہو)