کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: - اس حکم کا ذکر کہ عورت اپنے رضاعی چچا کو اپنے پاس آنے کی اجازت دے
حدیث نمبر: 4220
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ شَبِيبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتِ : اسْتَأْذَنَ عَلَيَّ أَخُو أَبِي قُعَيْسٍ بَعْدَمَا ضُرِبَ عَلَيْنَا الْحِجَابُ ، فَقُلْتُ : لا آذَنُ لَكَ حَتَّى يَأْتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَأْذَنْتُهُ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِِنَّ أَخَا أَبِي قُعَيْسٍ اسْتَأْذَنَ عَلَيَّ فَأَبَيْتُ أَنْ آذَنَ لَهُ حَتَّى أَسْتَأْذِنَكَ ، وَإِِنَّمَا أَرْضَعَتْنِي امْرَأَةُ أَبِي قُعَيْسٍ وَلَمْ يُرْضِعْنِي أَبُو قُعَيْسٍ ، فَقَالَ : " ائْذَنِي لَهُ فَإِِنَّهُ عَمُّكِ " .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ابوقعیس کے بھائی نے پردے کا حکم نازل ہو جانے کے بعد میرے ہاں اندر آنے کی اجازت مانگی تو میں نے کہا: میں آپ کو اس وقت تک اجازت نہیں دوں گی جب تک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف نہیں لے آتے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت مانگی میں نے عرض کی: یا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم! ابوقعیس کے بھائی نے میرے ہاں اندر آنے کی اجازت مانگی تو میں نے انہیں اس وقت تک اجازت دینے سے انکار کر دیا جب تک میں آپ سے اجازت نہ لے لوں کیوں کہ ابوقعیس کی بیوی نے مجھے دودھ پلایا ہے ابوقعیس نے مجھے دودھ نہیں پلایا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے اسے اجازت دے دینی تھی وہ تمہارا چچا ہے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الرضاع / حدیث: 4220
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: ق - وهو مكرر الذي قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 4206/*»