کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: - اس حکم کا ذکر کہ آدمی اپنی بیوی سے اس وقت جدا ہو جائے جب ایک عادل عورت اس کے سامنے گواہی دے کہ اس نے دونوں کو دودھ پلایا
حدیث نمبر: 4216
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ الْبَزَّارُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ ، قَالَ : " تَزَوَّجْتُ أُمَّ يَحْيَى بِنْتَ أَبِي إِِهَابٍ ، فَدَخَلَتْ عَلَيْنَا امْرَأَةٌ سَوْدَاءُ فَذَكَرَتْ أَنَّهَا أَرْضَعَتْنَا جَمِيعًا ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ : " كَيْفَ بِهَا وَقَدْ قَالَتْ مَا قَالَتْ ؟ دَعْهَا عَنْكَ " .
سیدنا عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے ام یحی بنت ابواہاب سے شادی کر لی ایک سیاہ فام عورت ہمارے ہاں آئی اس نے اس بات کا تذکرہ کیا کہ اس نے ہم دونوں (میاں بیوی) کو دودھ پلایا ہوا ہے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے اس بات کا تذکرہ کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اب کیا ہو سکتا ہے جب کہ اس عورت نے یہ بات بیان کر دی ہے تو تم اس عورت (یعنی اپنی بیوی) کو چھوڑ دو۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الرضاع / حدیث: 4216
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر ما بعده. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 4203»