کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: - اس وجہ کا ذکر جس کی بنا پر سہلہ نے سالم کو دودھ پلایا
حدیث نمبر: 4215
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانَ الطَّائِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ رَضَاعَةِ الْكَبِيرِ ، فَقَالَ : أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ أَبَا حُذَيْفَةَ بْنَ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ قَدْ شَهِدَ بَدْرًا وَكَانَ قَدْ تَبَنَّى سَالِمًا الَّذِي يُقَالُ لَهُ سَالِمُ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ ، كَمَا تَبَنَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْدَ بْنَ حَارِثَةَ ، وَأَنْكَحَ أَبُو حُذَيْفَةَ سَالِمًا وَهُوَ يَرَى أَنَّهُ ابْنُهُ ابْنَةَ أَخِيهِ فَاطِمَةَ بِنْتَ الْوَلِيدِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ وَهِيَ يَوْمَئِذٍ مِنَ الْمُهَاجِرَاتِ الأُوَلِ وَهِيَ يَوْمَئِذٍ أَفْضَلُ أَيَامَى قُرَيْشٍ ، فَلَمَّا أَنْزَلَ اللَّهُ فِي زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ مَا أَنْزَلَ ، فَقَالَ : ادْعُوهُمْ لآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ فَإِنْ لَمْ تَعْلَمُوا آبَاءَهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ وَمَوَالِيكُمْ سورة الأحزاب آية 5 ، رَدَّ كُلُّ وَاحِدٍ مِمَّنْ تَبَنَّى أُولَئِكَ إِِلَى أَبِيهِ ، فَإِِنْ لَمْ يُعْلَمْ أَبُوهُ رُدَّ إِِلَى مَوْلاهُ ، فَجَاءَتْ سَهْلَةُ بِنْتُ سُهَيْلٍ وَهِيَ امْرَأَةُ أَبِي حُذَيْفَةَ ، وَهِيَ مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ إِِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كُنَّا نَرَى سَالِمًا وَلَدًا وَكَانَ يَدْخُلُ عَلَيَّ ، وَلَيْسَ لَنَا إِِلا بَيْتٌ وَاحِدٌ ، فَمَاذَا تَرَى فِي شَأْنِهِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَرْضِعِيهِ خَمْسَ رَضَعَاتٍ فَيَحْرُمُ بِلَبَنِكِ " . فَفَعَلَتْ ، وَكَانَتْ تَرَاهُ ابْنًا مِنَ الرَّضَاعَةِ ، فَأَخَذَتْ بِذَلِكَ عَائِشَةُ فِيمَنْ كَانَتْ تُحِبُّ أَنْ يَدْخُلَ عَلَيْهَا مِنَ الرِّجَالِ ، فَكَانَتْ تَأْمُرُ أُخْتَهَا أُمَّ كُلْثُومٍ بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ وَبَنَاتِ أَخِيهَا أَنْ يُرْضِعْنَ مَنْ أَحَبَّتْ أَنْ يَدْخُلَ عَلَيْهَا مِنَ الرِّجَالِ ، وَأَبَى سَائِرُ أَزْوَاجِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَدْخُلَ عَلَيْهِنَّ بِتِلْكَ الرَّضَاعَةِ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ ، وَقُلْنَ : مَا نَرَى الَّذِي أَمْرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَهْلَةَ بِنْتَ سُهَيْلٍ ، إِِلا رُخْصَةً فِي سَالِمٍ وَحْدَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، لا يَدْخُلُ عَلَيْنَا بِهَذِهِ الرَّضَاعَةِ أَحَدٌ فَعَلَى هَذَا مِنَ الْخَبَرِ كَانَ رَأْيُ أَزْوَاجِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَضَاعَةِ الْكَبِيرِ .
امام مالک ابن شہاب زہری کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں: ان سے بڑی عمر کے فرد کی رضاعت کا مسئلہ دریافت کیا گیا: تو انہوں نے بتایا: عروہ بن زبیر نے مجھے یہ بات بتائی ہے سیدنا ابوحذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے تھے انہیں غزوہ بدر میں شرکت کا شرف حاصل ہے انہوں نے سالم کو منہ بولا: بیٹا بنایا تھا یہ وہ سالم ہے جنہیں سالم مولیٰ ابوحذیفہ کہا: جاتا ہے یہ بالکل اسی طرح تھا جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو اپنا منہ بولا: بیٹا بنایا تھا۔ سیدنا ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ نے سالم کی شادی اپنی بھتیجی فاطمہ بنت ولید بن عتبہ بن ربیعہ سے کی تھی اس کی وجہ یہی تھی کہ وہ اسے اپنا بیٹا سمجھتے تھے اور وہ لڑکی اس وقت ابتدائی طور پر ہجرت کرنے والی خواتین میں شامل تھیں اور قریش کی بیوہ عورتوں میں سب سے زیادہ فضیلت رکھنے والی خاتون تھیں جب اللہ تعالیٰ نے سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں حکم نازل کر دیا اور ارشاد فرمایا۔ ” تم انہیں ان کے حقیقی باپوں کے حوالے سے بلاؤ یہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں انصاف کے زیادہ مطابق ہے اور اگر تمہیں ان کے حقیقی باپ کے بارے میں علم نہ ہو تو یہ تمہارے دینی بھائی ہیں اور آزاد کردہ غلام ہیں۔ “ تو ہر وہ شخص جس نے منہ بولا: بیٹا بنا ہوا تھا اس نے اس بچے کی نسبت اس کے باپ کی طرف کر دی اور اگر کسی کے باپ کے بات بارے میں پتہ نہیں تھا تو اسے اس کے آزاد کرنے والے آقا کی طرف منسوب کیا گیا۔ سہلہ بنت سہیل جو ابوحذیفہ کی اہلیہ تھیں اور ان کا تعلق بنو عامر بن لوی سے تھا وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی انہوں نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! ہم سالم کو اپنا بیٹا ہی سمجھتے تھے وہ میرے پاس آیا کرتا تھا ہمارا صرف ایک ہی گھر ہے تو اس کے معاملے کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اسے پانچ مرتبہ دودھ پلا دو تمہارے دودھ کی وجہ سے وہ حرمت والا ہو جائے گا۔ اس خاتون نے ایسا ہی کیا وہ خاتون اس لڑکے کو اپنا رضاعی بیٹا سمجھتی تھی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ حکم حاصل کیا جس مرد کے بارے میں وہ یہ بات پسند کرتی تھیں کہ وہ ان کے ہاں آ جایا کرے تو وہ اپنی بہن سیدہ ام کلثوم بنت سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہا کو یا اپنی کسی بھتیجی کو یہ ہدایت کرتی تھیں کہ وہ اس لڑکے کو دودھ پلا دے جس کے بارے میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اس بات کو پسند کرتی تھیں کہ وہ ان کے ہاں آ جایا کرے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دیگر تمام ازواج نے اس بات کو تسلیم نہیں کیا کہ اس نوعیت کی رضاعت کی وجہ سے کوئی بھی شخص ان کے ہاں داخل ہو وہ ازواج یہ کہا: کرتی تھیں: ہم یہ بجھتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سہلہ بنت سہیل کو یہ حکم اس حوالے سے دیا تھا کہ یہ صرف سالم کے لیے رخصت تھی جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے تھی اس طرح کی رضاعت کی وجہ سے کوئی بھی شخص ہمارے ہاں نہیں آ سکتا۔ تو بڑی عمر کے شخص کی رضاعت کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کی یہ رائے تھی جو اس روایت میں منقول ہے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الرضاع / حدیث: 4215
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث صحيح رجاله ثقات رجال الشيخين
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 4202»