کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: شہید کے بیان میں فصل - اس بات کا ذکر کہ اللہ جل وعلا اپنے فضل سے اس شخص کے لیے شہادت لکھتا ہے جو اپنے مال پر زیادتی کی وجہ سے قتل ہو
حدیث نمبر: 3193
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَزَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ ، قَالَ : حَدَّثَتْنَا أُمُّ سَلَمَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَا هُوَ فِي بَيْتِهَا وَعِنْدَهُ نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِهِ إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَمْ صَدَقَةُ كَذَا وَكَذَا مِنَ التَّمْرِ ؟ قَالَ : " كَذَا وَكَذَا " قَالَ الرَّجُلُ : فَإِنَّ فُلانًا تَعَدَّى عَلَيَّ ، وَأَخَذَ مِنِّي كَذَا وَكَذَا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَكَيْفَ إِذَا سَعَى عَلَيْكُمْ مَنْ يَتَعَدَّى عَلَيْكُمْ أَشَدَّ مِنْ هَذَا التَّعَدِّي ؟ " فَخَاضَ الْقَوْمُ فِي ذَلِكَ ، فَقَالَ الرَّجُلُ مِنْهُمْ : فَكَيْفَ بِنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِذَا كَانَ الرَّجُلُ مِنَّا غَائِبًا فِي إِبِلِهِ وَمَاشِيَتِهِ وَزَرْعِهِ وَنَخْلِهِ ، فَأَدَّى زَكَاةَ مَالِهِ ، فَتَعَدَّى عَلَيْهِ الْحَقَّ ، فَكَيْفَ يَصْنَعُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَدَّى زَكَاةَ مَالِهِ طَيْبَةً بِهَا نَفْسُهُ يُرِيدُ بِهَا وَجْهَ اللَّهِ وَالدَّارَ الآخِرَةَ ، ثُمَّ لَمْ يُغَيِّبُ مِنْهَا شَيْئًا ، وَأَقَامَ الصَّلاةَ ، وَآتَى الزَّكَاةَ فَتَعَدَّى عَلَيْهِ الْحَقَّ ، فَأَخَذَ سِلاحَهُ ، فَقَاتَلَ فَقُتِلَ ، فَهُوَ شَهِيدٌ " ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : مَعْنَى هَذَا الْخَبَرِ إِذَا تَعَدَّى عَلَى الْمَرْءِ فِي أَخَذِ صَدَقَتِهِ ، أَوْ مَا يُشْبِهُ هَذِهِ الْحَالَةَ ، وَكَانَ مَعَهُ مِنَ الْمُسْلِمِينَ الَّذِي يُوَاطِئُونَهُ عَلَى ذَلِكَ ، وَفِيهِمْ كِفَايَةٌ بَعْدَ أَنْ لا يَكُونَ قَصْدُهُمُ الدُّنْيَا ، وَلا شَيْئًا مِنْهَا دُونَ إِلْقَاءِ الْمَرْءِ نَفْسَهُ إِلَى التَّهْلُكَةِ . إِذِ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لأَبِي ذَرٍ : " اسْمَعْ وَأَطِعْ وَلَوْ عَبْدًا حَبَشِيًّا مُجَدَّعًا " . وَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ حَمَلَ عَلَيْنَا السِّلاحَ فَلَيْسَ مِنَّا " .
امام زین العابدین رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے ہمیں یہ حدیث بیان کی ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے ہاں موجود تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ اصحاب بھی موجود تھے اسی دوران ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی: یا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم! اتنی کھجوروں کا صدقہ (یعنی زکوۃ) کتنا ہو گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اتنا۔ اس نے عرض کی: فلاں صاحب نے میرے ساتھ زیادتی کی ہے انہوں نے مجھ سے اتنی، اتنی وصولی کر لی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس وقت کیا عالم ہو گا، جب تم پر ایسے حکمران مسلط ہوں گے جو تمہارے ساتھ اس سے زیادہ زیادتی کریں گے، تو لوگ اس بات پر پریشان ہو گئے ان میں سے ایک صاحب نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! اس وقت ہمارا کیا بنے گا، جب کوئی شخص اپنے اونٹوں میں یا جانوروں میں یا کھیت میں یا باغ میں موجود نہیں ہو گا اور وہ اپنے مال کی زکوۃ ادا کرے گا اس کے ساتھ زیادتی ہو جائے گی، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! تو اسے کیا کرنا چاہیئے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص اپنی خوشی کے ساتھ اپنے مال کی زکوۃ ادا کرے اور اس کا مقصداللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول ہو، آخرت کا حصول ہو اور وہ اس میں سے کوئی چیز غائب نہ کرے اور وہ نماز قائم کرے اور زکوۃ ادا کرے اور پھر اس کے ساتھ زیادتی ہو، تو وہ اپنا اسلحہ پکڑے اور لڑائی کرتے ہوئے مارا جائے، تو وہ شہید ہو گا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:): اس روایت کا مطلب یہ ہے: جب زکوۃ وصولی یا اس جیسی کسی اور صورتحال میں کسی شخص کے خلاف زیادتی کی جائے اور پھر اس شخص کے ہمراہ مسلمان موجود ہوں جو اس بارے میں اس کا ساتھ دیں اور اس میں کفایت بھی موجود ہو اور ان کا مقصد دنیاوی فائدے کا حصول نہ ہو۔ اس سے مراد یہ نہیں ہے کہ آدمی اپنے آپ کو ہلاکت کا شکار کر لے کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے یہ فرمایا تھا: ” تم اطاعت و فرمانبرداری سے کام لو۔ اگرچہ ناک کان کٹا ہوا حبشی (حکمران ہو) “ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات بھی ارشاد فرمائی ہے ” جو شخص ہم پر ہتھیار اٹھاتا ہے اس کا ہم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ “