کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: قبروں کی زیارت کے بیان میں فصل - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی دلیل ہے کہ قبروں کو مساجد بنانا اور ان میں تصویریں بنانا جائز نہیں
حدیث نمبر: 3181
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : لَمَّا كَانَ مَرَضُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ذَكَرَ بَعْضُ نِسَائِهِ كَنِيسَةً رَأَيَاهَا بِأَرْضِ الْحَبَشَةِ ، وَكَانَتْ أُمُّ سَلَمَةَ ، وَأُمُّ حَبِيبَةَ قَدْ أَتَتَا أَرْضَ الْحَبَشَةِ ، فَذَكَرْنَ كَنِيسَةً رَأَيْنَهَا بِأَرْضِ الْحَبَشَةِ يُقَالُ لَهَا مَارِيَةُ ، وَذَكَرْنَ مِنْ حُسْنِهَا وَتَصَاوِيرَ فِيهَا ، فَرَفَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ ، فَقَالَ : " إِنَّ أُولَئِكَ إِذَا مَاتَ مِنْهُمُ الرَّجُلُ الصَّالِحُ بَنَوْا عَلَى قَبْرِهِ مَسْجِدًا ، ثُمَّ صَوَّرُوا فِيهِ تِلْكَ الصُّوَرَ ، وَأُولَئِكَ شِرَارُ الْخَلْقِ عِنْدَ اللَّهِ تَعَالَى " .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج میں سے کسی نے ایک گرجا کا ذکر کیا جو انہوں نے حبشہ کی سرزمین پر دیکھا تھا۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا حبشہ گئی تھیں انہوں نے ایک گرجا گھر کا ذکر کیا جو انہوں نے حبشہ کی سرزمین پر دیکھا تھا جس کا نام ماریہ تھا انہوں نے اس گرجا گھر کی خوبصورتی اور اس میں موجود تصویروں کا تذکرہ کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر مبارک اٹھایا اور ارشاد فرمایا: ان لوگوں کا یہ معمول تھا جب ان میں سے کوئی نیک آدمی فوت ہو جاتا، تو وہ اس کی قبر پر مسجد بنا دیتے تھے اور پھر وہ اس میں اس کی تصویریں لگا دیتے تھے یہ لوگاللہ تعالیٰ کے نزدیک بدترین مخلوق تھے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا / حدیث: 3181
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «تحذير الساجد»، «أحكام الجنائز» (278): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناد صحيح على شرط الشيخين
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 3171»