کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: قبروں کی زیارت کے بیان میں فصل - اس خبر کا ذکر جو اس دعوے کو رد کرتا ہے کہ مقبرہ میں داخل ہونے پر آدمی کو "علیکم السلام" کہنا چاہیے نہ کہ "السلام علیکم"
حدیث نمبر: 3172
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلَّمَا كَانَتْ لَيْلَتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَخْرُجُ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ إِلَى الْبَقِيعِ فَيَقُولُ : " السَّلامُ عَلَيْكُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ ، وَأَتَانَا وَإِيَّاكُمْ مَا تُوعَدُونَ غَدًا مُؤَجَّلُونَ ، وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِكُمْ لاحِقُونَ ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لأَهْلِ بَقِيعِ الْغَرْقَدِ " .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: جب بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ان کے ہاں رات ٹھہرنے کی باری ہوتی تھی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے آخری حصے میں بقیع کی طرف تشریف لے جاتے تھے اور یہ کہتے تھے۔ ” اے مومنوں کی قوم کی بستی کے رہنے والو! تم پر سلام ہو ہمارے پاس اور تمہارے پاس وہ چیز آ جائے گی، جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا اور اگر اللہ نے چاہا، تو ہم بھی تم سے آ ملیں گے اے اللہ! تمام اہل بقیع کی مغفرت کر دے۔ “
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا / حدیث: 3172
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الأحكام» (239): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناد صحيح على شرط الشيخين
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 3162»