کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: نوحہ اور اس جیسی دیگر باتوں کے بیان میں فصل - اس بات کی اجازت کا ذکر کہ آدمی اپنے بیٹے یا پوتے کے کھو جانے پر رونا جب تک کہ رونا ناراضگی کی حالت سے نہ ملے
حدیث نمبر: 3158
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَازِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ أَسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ : أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَتَيْتُهُ بِابْنَةِ زَيْنَبَ وَنَفْسُهَا تَقَعْقَعُ كَأَنَّهَا فِي شَنٍّ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لِلَّهِ مَا أَخَذَ ، وَلَهُ مَا أَعْطَى ، وَكُلٌّ إِلَى أَجَلٍ " قَالَ : فَدَمَعَتْ عَيْنَاهُ ، فَقَالَ لَهُ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَرِقُّ ، أَوْلَمْ تَنْهَ عَنِ الْبُكَاءِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّمَا هِيَ رَحْمَةٌ جَعَلَهَا اللَّهُ فِي قُلُوبِ عِبَادِهِ ، وَإِنَّمَا يَرْحَمُ اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الرُّحَمَاءَ " .
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کے ہاں آیا جو آخری سانسیں لے رہی تھیں ان کی سانس اکھڑی ہوئی تھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:اللہ تعالیٰ جو واپس لے لے وہ بھی اسی کی ملکیت ہے اور جو عطا کر دے وہ بھی اسی کی ملکیت اور ہر چیز کا ایک طے شدہ وقت ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم رو رہے ہیں کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رونے سے منع نہیں کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ وہ رحمت ہے، جسےاللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے دلوں میں رکھا ہے اوراللہ تعالیٰ اپنے رحم کرنے والے بندوں پر ہی رحم کرتا ہے۔