کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: نوحہ اور اس جیسی دیگر باتوں کے بیان میں فصل - اس خبر کا ذکر جو اس فعل کی کلیتاً ممانعت کو واضح کرتی ہے
حدیث نمبر: 3146
أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : أَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَلَى النِّسَاءِ حَيْثُ بَايَعَهُنَّ أَنْ لا يَنُحْنَ ، فَقُلْنَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ نِسَاءً أَسْعَدْنَنَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، فَنُسْعِدُهُنَّ فِي الإِسْلامِ ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا إِسْعَادَ فِي الإِسْلامِ ، وَلا شِغَارَ فِي الإِسْلامِ ، وَلا عَقْرَ فِي الإِسْلامِ ، وَلا جَلَبَ ، وَلا جَنَبَ وَمَنِ انْتَهَبَ فَلَيْسَ مِنَّا " .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خواتین سے بیعت لیتے ہوئے یہ عہد بھی لیتے تھے کہ وہ نوحہ نہیں کریں گی خواتین نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زمانہ جاہلیت میں کچھ خواتین نے ہمارا ساتھ دیا تھا، تاکہ ہم اسلام قبول کرنے کے بعد ان کا ساتھ دیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اسلام میں (نوحہ کرنے میں) ساتھ دینے کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ اسلام میں شغار کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ اسلام میں عقر (یعنی مرحومین کی قبروں پر اونٹ قربان کرنے) کی کوئی حیثیت نہیں ہے اور جلب اور جنب کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ اور جو شخص کوئی چیز اچک لے اس کا ہم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا / حدیث: 3146
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «المشكاة» (2947). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط البخاري
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 3136»