کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: نوحہ اور اس جیسی دیگر باتوں کے بیان میں فصل - اس بات سے منع کرنے کا ذکر کہ عورت مصیبت کے وقت دوسری عورتوں کو رونا سکھائے
حدیث نمبر: 3144
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، قَالَ : قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ : لَمَّا مَاتَ أَبُو سَلَمَةَ قُلْتُ : غَرِيبٌ فِي أَرْضِ غُرْبَةٍ ، لأَبْكِيَنَّ بُكَاءً يُتَحَدَّثُ عَنْهُ ، وَكُنْتُ قَدْ هَيَّأْتُ الْبُكَاءُ عَلَيْهِ ، إِذْ أَقْبَلَتِ امْرَأَةٌ مِنَ الْمُسْعِدَاتِ تُرِيدُ أَنْ تُسْعِدَنِي ، فَاسْتَقْبَلَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ : " تُرِيدِينَ أَنْ تُدْخِلِي الشَّيْطَانَ بَيْتًا أَخْرَجَهُ اللَّهُ مِنْهُ ؟ " قَالَتْ : فَكَفَفْتُ عَنِ الْبُكَاءِ ، وَلَمْ أَبْكِ .
عبید بن عمیر بیان کرتے ہیں: سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے یہ بات بیان کی ہے جب سیدنا ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا، تو میں نے کہا: یہ ایک غریب الوطن شخص تھے جو اپنے وطن سے دور انتقال کر گئے ہیں میں ان پر اس طرح روؤں گی کہ اس کا چرچا کیا جائے گا میں نے ان پر رونے کے لیے خود کو تیار بھی کر لیا پھر ایک عورت آئی جو رونے میں ساتھ دیا کرتی تھی اس کا بھی یہی ارادہ تھا کہ وہ میرا ساتھ دے گی پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کیا تم یہ چاہتی ہو کہ شیطان کو ایسے گھر میں داخل کر دو جس سےاللہ تعالیٰ نے اسے باہر نکال دیا ہے۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: تو میں رونے سے رک گئی۔ اور میں روئی نہیں۔
حدیث نمبر: 3145
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ حَفْصَةَ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ ، قَالَتْ : لَمَّا نَزَلَتْ : إِذَا جَاءَكَ الْمُؤْمِنَاتُ يُبَايِعْنَكَ إِلَى قَوْلِهِ : وَلا يَعْصِينَكَ فِي مَعْرُوفٍ سورة الممتحنة آية 12 ، قَالَتْ : كَانَ مِنْهُ النِّيَاحَةُ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِلا آلَ فُلانٍ فَإِنَّهُمْ قَدْ كَانُوا أَسْعَدُونِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، فَلا بُدَّ لِي مِنْ أَنْ أُسْعِدَهُمْ ، فَقَالَ : " إِلا آلَ فُلانٍ " .
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: جب یہ آیت نازل ہوئی۔ ” جب مومن خواتین تمہارے پاس بیعت کرنے کے لیے آئیں۔ “ یہ آیت یہاں تک ہے ” اور وہ معروف کے بارے میں تمہاری نافرمانی نہیں کریں گی۔ “ سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ان میں سے ایک چیز نوحہ کرنا ہے میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے صرف فلاں خاتون کے ساتھ نوحہ کرنے کی اجازت دے دیں، کیونکہ اس نے زمانہ جاہلیت میں میرا ساتھ دیا تھا اس لیے میرے لیے یہ ضروری ہے کہ میں بھی اس کا ساتھ دوں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صرف ان کے لیے (تم نوحہ کر لینا)