کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: قبر میں میت کے احوال کے بیان میں فصل - دوسری خبر کا ذکر جو واضح کرتی ہے کہ یہ خطاب کافروں پر تھا، نہ کہ مسلمانوں پر
حدیث نمبر: 3137
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ لَمَّا مَاتَ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ قَالَ لَهُمْ لا تَبْكُوا ، فَإِنَّ بُكَاءَ الْحَيِّ عَذَابٌ لِلْمَيِّتِ ، قَالَتْ عَمْرَةُ : فَسَأَلْتُ عَائِشَةَ ، فَقَالَتْ : يَرْحَمُهُ اللَّهُ ، إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَهُودِيَّةٍ وَأَهْلُهَا يَبْكُونَ عَلَيْهَا : " إِنَّهُمْ لَيَبْكُونَ ، وَإِنَّهَا لَتُعَذَّبُ فِي قَبْرِهَا " .
عبداللہ بن ابوبکر اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: جب سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ان کے گھر والوں سے کہا: تم لوگ نہ روؤ، کیونکہ زندہ کے رونے کی وجہ سے میت کو عذاب ہوتا ہے۔ عمرہ نامی خاتون بیان کرتی ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس بارے میں دریافت کیا: تو انہوں نے فرمایا:اللہ تعالیٰ ان پر یعنی سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما پر) رحم کرے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی عورت اور اس پر رونے والے اس کے اہل خانہ کے بارے میں یہ فرمایا تھا: ” یہ لوگ رو رہے ہیں اور اس عورت کو اس کی قبر میں عذاب دیا جا رہا ہے۔ “
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا / حدیث: 3137
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح ابن ماجه» (1595) - مضى (3117). تنبيه!! رقم (3117) = (3127) من «طبعة المؤسسة». لكن الحديث ليس موجود بالرقو المشار إليه، وإنما موجود برقم (3113) الموافق لـ (3123) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 3127»