کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: قبر میں میت کے احوال کے بیان میں فصل - اس بات کی اطلاع کہ قبروں والوں کے سامنے ان کے ٹھکانے ہر روز دو بار پیش کیے جاتے ہیں جہاں وہ رہتے ہیں
حدیث نمبر: 3130
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا مَاتَ عُرِضَ عَلَيْهِ مَقْعَدُهُ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ ، إِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، فَمَنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، وَإِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ ، فَمَنْ أَهْلِ النَّارِ ، يُقَالُ : هَذَا مَقْعَدُكَ حَتَّى يَبْعَثَكَ اللَّهُ إِلَيْهِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ " .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” جب کوئی شخص فوت ہو جاتا ہے، تو اس کا ٹھکانہ صبح و شام اس کے سامنے پیش کیا جاتا ہے، اگر وہ اہل جنت میں سے ہو، تو اہل جنت کا ٹھکانہ پیش کیا جاتا ہے اور اگر وہ اہل جہنم میں سے ہو، تو اہل جہنم کا ٹھکانہ پیش کیا جاتا ہے اور اسے یہ کہا: جاتا ہے یہ تمہارا ٹھکانہ ہے قیامت کے دناللہ تعالیٰ تمہیں اس کی طرف بھیج دے گا۔ “
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا / حدیث: 3130
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الروض» (495): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 3120»