کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: قبر میں میت کے احوال کے بیان میں فصل - اس چیز کی اطلاع جو آدمی پر لازم ہے کہ وہ اس سے بچے تاکہ آخرت میں قبر کے عذاب سے محفوظ رہے
حدیث نمبر: 3129
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِقَبْرَيْنِ ، فَقَالَ : " إِنَّ هَذَيْنِ يُعَذَّبَانِ فِي غَيْرِ كَبِيرٍ : فِي النَّمِيمَةِ وَالْبَوْلِ " ، ثُمَّ دَعَا بِجَرِيدَةٍ فَكَسَرَهَا ، فَوَصَلَهَا عَلَيْهِمَا ، وَقَالَ : " عَسَى أَنْ يُخَفَّفَ عَنْهُمَا مَا لَمْ يَيْبَسَا " ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : سَمِعَ هَذَا الْخَبَرَ مُجَاهِدٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، وَسَمِعَهُ عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، فَالطَّرِيقَانِ جَمِيعًا مَحْفُوظَانِ .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دو قبروں کے پاس سے گزرے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ان دونوں کو (بظاہر) کسی بڑی وجہ سے عذاب نہیں ہو رہا انہیں چغلی کرنے اور پیشاب (سے نہ بچنے) کی وجہ سے عذاب ہو رہا ہے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شاخ منگوائی اسے توڑا اور ان دونوں کی قبروں پر لگا دیا اور ارشاد فرمایا: (میں نے ایسا اس لیے کیا ہے)، تاکہ جب تک یہ دونوں خشک نہیں ہوتیں ان کے عذاب میں تخفیف ہو جائے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:): مجاہد نے یہ روایت سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی سنی ہے اور انہوں نے یہ روایت طاؤس کے حوالے سے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سنی ہے۔ تو اس کے دونوں طرق محفوظ ہیں۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا / حدیث: 3129
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 3119»