کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: قبر میں میت کے احوال کے بیان میں فصل - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی دلیل ہے کہ قبر کا عذاب چغل خوری کی وجہ سے بھی ہو سکتا ہے
حدیث نمبر: 3128
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَبْرَيْنِ ، فَقَالَ : " إِنَّهُمَا لَيُعَذَّبَانِ ، وَمَا يُعَذَّبَانِ فِي كَبِيرٍ " ، ثُمَّ قَالَ : " بَلَى ، أَمَا أَحَدُهُمَا ، فَكَانَ يَسْعَى بِالنَّمِيمَةِ ، وَأَمَّا الآخَرُ ، فَكَانَ لا يَسْتَنْزِهُ مِنْ بَوْلِهِ " ، ثُمَّ أَخَذَ عُودًا ، فَكَسَرَهُ بِاثْنَيْنِ ، ثُمَّ غَرَزَ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا عَلَى قَبْرٍ ، ثُمَّ قَالَ : " لَعَلَّهُ يُخَفِّفُ عَنْهُمَا الْعَذَابَ مَا لَمْ يَيْبَسَا " .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دو قبروں کے پاس سے گزرے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ان دونوں کو عذاب ہو رہا ہے اور ان دونوں کو (بظاہر) کسی بڑی وجہ سے عذاب نہیں ہو رہا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جی ہاں جہاں تک ان میں سے ایک کا تعلق ہے، تو یہ چغلی کیا کرتا تھا اور جہاں تک دوسرے کا تعلق ہے، تو یہ پیشاب سے نہیں بچتا تھا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لکڑی لی پھر اسے دو حصوں میں تقسیم کیا اور ان میں سے ہر ایک کی قبر پر اسے گاڑھ دیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں نے ایسا اس لیے کیا ہے، تاکہ جب تک یہ دونوں خشک نہیں ہو جاتیں ان دونوں کے عذاب میں تخفیف ہو جائے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا / حدیث: 3128
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الإرواء» (178 و 283)، «صحيح أبي داود» (15): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 3118»