کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: قبر میں میت کے احوال کے بیان میں فصل - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی دلیل ہے کہ قبر کا عذاب پیشاب سے استبراء نہ کرنے کی وجہ سے ہو سکتا ہے
حدیث نمبر: 3127
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَازِمٍ ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَسَنَةَ ، قَالَ : خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَفِي يَدِهِ كَهَيْئَةِ الدَّرَقَةِ ، فَوَضَعَهَا ، ثُمَّ بَالَ إِلَيْهَا فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ : انْظُرُوا إِلَيْهِ يَبُولُ كَمَا تَبُولُ الْمَرْأَةُ ، قَالَ : فَسَمِعَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " وَيْحَكَ ، مَا عَلِمْتَ مَا أَصَابَ صَاحِبَ بَنِي إِسْرَائِيلَ ؟ كَانُوا إِذَا أَصَابَهُمْ شَيْءٌ مِنَ الْبَوْلِ ، قَرَضُوا بِالْمَقَارِيضِ فَنَهَاهُمْ ، فَعُذِّبَ فِي قَبْرِهِ " .
سیدنا عبدالرحمن بن حسنہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست اقدس میں ڈھال نما کوئی چیز تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے رکھا اور اس کی طرف رخ کر کے پیشاب کیا۔ حاضرین میں سے کسی نے کہا: ان کی طرف دیکھو یہ یوں پیشاب کر رہے ہیں، جس طرح عورت پیشاب کرتی ہے۔ راوی کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی بات سن لی اور ارشاد فرمایا: تمہارا ستیاناس ہو کیا تمہیں معلوم نہیں ہے کہ بنی اسرائیل سے تعلق رکھنے والے شخص کے ساتھ کیا ہوا تھا ان لوگوں کا یہ معمول تھا کہ جب ان کے جسم پر پیشاب لگ جاتا تھا، تو وہ اسے قینچی کے ذریعے کاٹ دیتے تھے ایک شخص نے انہیں اس سے منع کیا، تو اسے اس کی قبر میں عذاب دیا گیا۔