کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: قبر میں میت کے احوال کے بیان میں فصل - اس بات کی اطلاع کہ منکر و نذیر کے سوال کا جواب دینے کے بعد مسلمان اور کافر کے ساتھ کیا کیا جاتا ہے
حدیث نمبر: 3120
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ الشَّيْبَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا وُضِعَ فِي قَبْرِهِ ، وَتَوَلَّوْا عَنْهُ أَصْحَابُهُ حَتَّى إِنَّهُ لَيَسْمَعُ قَرْعَ نِعَالِهِمْ ، أَتَاهُ مَلَكَانِ فَيُقْعِدَانِهِ فَيَقُولانِ : مَا كُنْتَ تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ ؟ فِي مُحَمَّدٍ فَأَمَّا الْمُؤْمِنُ فَيَقُولُ : أَشْهَدُ أَنَّهُ عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ ، فَيُقَالُ لَهُ : انْظُرْ إِلَى مَقْعَدِكَ مِنَ النَّارِ قَدْ أَبْدَلَكَ اللَّهُ مَقْعَدًا مِنَ الْجَنَّةِ " قَالَ قَتَادَةُ : وَذُكِرَ لَنَا أَنَّهُ يَفْسَحُ لَهُ فِي قَبْرِهِ سَبْعُونَ ذِرَاعًا ، وَيُمْلأُ عَلَيْهِ خَضِرًا إِلَى يَوْمِ يَبْعَثُونَ ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى حَدِيثِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : " وَأَمَّا الْكَافِرُ وَالْمُنَافِقُ ، فَيُقَالُ لَهُ : مَا كُنْتَ تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ ؟ فَيَقُولُ : لا أَدْرِي ، كُنْتُ أَقُولُ مَا يَقُولُ النَّاسُ ، فَيُقَالُ : لا دَرَيْتَ ، وَلا تَلَيْتَ ، ثُمَّ يُضْرَبُ بِمِطْرَاقٍ مِنْ حَدِيدٍ ضَرْبَةً بَيْنَ أُذُنَيْهِ ، فَيَصِيحُ صَيْحَةً يَسْمَعُهَا مَنْ عَلَيْهَا غَيْرَ الثَّقَلَيْنِ " .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: جب بندے کو قبر میں رکھ دیا جاتا ہے اور اس کے ساتھی اسے چھوڑ کر چلے جاتے ہیں، تو وہ ان کے جوتوں کی آہٹ بھی سنتا ہے اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں وہ اسے بٹھاتے ہیں اور یہ کہتے ہیں: ان صاحب کے بارے میں تم کیا کہتے ہو؟ یعنی سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ پوچھتے ہیں اگر وہ مومن ہو، تو یہ کہتا ہے میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ یہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، تو اس سے کہا: جاتا ہے: اپنے جہنم کے ٹھکانے کو دیکھواللہ تعالیٰ نے اس کی جگہ تمہیں جنت کا ٹھکانہ عطا کر دیا ہے۔ “ قتادہ نامی راوی نے یہ بات ذکر کی ہے ہمارے سامنے یہ بات ذکر کی گئی کہ اس شخص کے لیے قبر کو ستر بالشت تک کشادہ کر دیا جاتا ہے اور اس کے لیے قیامت کے دن تک سبزہ بھر دیا جاتا ہے۔ اس کے بعد قتادہ واپس سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی حدیث کی طرف آئے، جس میں یہ الفاظ ہیں (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا) ” جہاں تک کافر اور منافق کا تعلق ہے، تو اس سے یہ کہا: جاتا ہے تم ان صاحب کے بارے میں کیا کہتے ہو، تو وہ جواب دیتا ہے مجھے نہیں معلوم میں وہی بات کہتا تھا جو لوگ کہتے تھے، تو اس سے کہا: جاتا ہے: نہ، تو تم نے علم حاصل کیا اور نہ ہی (قرآن کی) تلاوت کی پھر اس کے دونوں کانوں کے درمیان لوہے سے بنا ہوا گرز مارا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں وہ چیخ مارتا ہے، جسے انسانوں اور جنات کے علاوہ زمین پر موجود ہر چیز سنتی ہے۔ “
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا / حدیث: 3120
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (1344)، «الآيات البينات» (45 - 46). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناد صحيح على شرط الشيخين
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 3110»