کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: قبر میں میت کے احوال کے بیان میں فصل - اس بات کی اطلاع کہ آدمی اپنی قبر میں فتنہ سے گزرتا ہے، چاہے وہ مسلمان ہو یا کافر
حدیث نمبر: 3114
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ الطَّائِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، أَنَّهَا قَالَتْ : أَتَيْتُ عَائِشَةَ حِينَ خَسَفَتِ الشَّمْسُ ، فَإِذَا النَّاسُ قِيَامٌ يُصَلُّونَ ، وَإِذَا هِيَ قَائِمَةٌ تُصَلِّي ، فَقُلْتُ : مَا لِلنَّاسِ ؟ فَأَشَارَتْ بِيَدِهَا إِلَى السَّمَاءِ ، وَقَالَتْ : سُبْحَانَ اللَّهِ فَقُلْتُ : آيَةٌ ؟ فَأَشَارَتْ : أَيْ نَعَمْ ، قَالَتْ : فَقُمْتُ حَتَّى تَجَلانِي الْغَشْيُ ، فَجَعَلْتُ أُصُبُّ الْمَاءَ فَوْقَ رَأْسِي ، فَلَمَّا انْصَرَفَ حَمِدَ اللَّهَ رَسُولَ اللَّهِ ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : " مَا مِنْ شَيْءٍ كُنْتُ لَمْ أَرَهُ إِلا قَدْ رَأَيْتُهُ فِي مَقَامِي هَذَا حَتَّى الْجَنَّةَ وَالنَّارَ ، وَلَقَدْ أُوحِيَ إِلَيَّ أَنَّكُمْ تُفْتَنُونَ فِي الْقُبُورِ مِثْلَ أَوْ قَرِيبًا مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ " ، لا أَدْرِي أَيَّ ذَلِكَ قَالَتْ أَسْمَاءُ يُؤْتَى أَحَدُكُمْ ، فَيُقَالُ لَهُ : " مَا عِلْمُكَ بِهَذَا الرَّجُلِ ؟ فَأَمَّا الْمُؤْمِنُ أَوِ الْمُوقِنُ فَلا أَدْرِي أَيَّ ذَلِكَ قَالَتْ أَسْمَاءُ فَيَقُولُ : " مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ جَاءَنَا بِالْبَيِّنَاتِ وَالْهُدَى ، فَأَجَبْنَا وَآمَنَّا وَاتَّبَعْنَا ، فَيُقَالُ لَهُ : نَمْ صَالِحًا قَدْ عَلِمْنَا إِنْ كُنْتَ لَمُؤْمِنًا ، وَأَمَّا الْمُنَافِقُ أَوِ الْمُرْتَابُ " ، لا أَدْرِي أَيَّ ذَلِكَ قَالَتْ أَسْمَاءُ فَيَقُولُ : " لا أَدْرِي ، سَمِعْتُ النَّاسَ يَقُولُونَ شَيْئًا فَقُلْتُهُ " .
سیدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: جب سورج گرہن ہوا، تو میں عائشہ کے پاس آئی وہاں لوگ کھڑے ہوئے نماز ادا کر رہے تھے عائشہ بھی کھڑی ہوئی نماز ادا کر رہی تھی میں نے کہا: لوگوں کو کیا ہوا ہے، تو اس نے اپنے ہاتھ کے ذریعے آسمان کی طرف اشارہ کیا اور سبحان اللہ کہا: میں نے کہا: کیا کوئی نشانی نمودار ہوئی ہے، تو اس نے اشارے سے جواب دیا جی ہاں سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں بھی کھڑی ہوئی، یہاں تک کہ مجھ پر بے ہوشی طاری ہونے لگی، تو میں اپنے سر پر پانی انڈیلنے لگی جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کر لی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےاللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ ” ہر وہ چیز جو میں نے پہلے نہیں دیکھی تھی وہ میں نے اس جگہ پر کھڑے ہوئے دیکھ لی ہے، یہاں تک کہ جنت اور جہنم کو بھی دیکھ لیا اور میری طرف یہ بات وحی کی گئی ہے کہ تم لوگوں کو قبروں میں آزمائش میں مبتلا کیا جائے گا جو دجال کی آزمائش کی مانند ہو گی (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) اس کے قریب ہو گی (راوی کہتے ہیں) مجھے نہیں معلوم سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے کیا لفظ بیان کیا تھا تم میں سے کسی ایک کے پاس (فرشتہ) آئے گا اور اس سے دریافت کیا: جائے گا ان صاحب کے بارے میں تمہارا علم کیا ہے، تو اگر، تو وہ ایمان رکھنے والا شخص ہو گا (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) یقین رکھنے والا شخص ہو گا (راوی کہتے ہیں) مجھے نہیں معلوم تھا سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے کیا لفظ بیان کیا تھا، تو وہ یہ کہے گا یہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں یہ ہمارے پاس واضح دلائل اور ہدایت لے کر آئے تھے ہم نے ان کی دعوت کو قبول کیا ہم ان پر ایمان لائے اور ہم نے ان کی پیروی کی، تو اس شخص سے یہ کہا: جائے گا تم اچھی حالت میں سو جاؤ، ہمیں پتہ تھا تم ایمان رکھتے ہو اور اگر وہ شخص منافق ہو گا یا شک کا شکار ہو گا (راوی کہتے ہیں) مجھے نہیں معلوم کہ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے کیا لفظ استعمال کیا تھا، تو وہ یہ کہے گا مجھے نہیں معلوم میں نے لوگوں کو ایک بات کہتے ہوئے سنا تھا، تو میں نے بھی وہی بات کہہ دی۔