کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: قبر میں میت کے احوال کے بیان میں فصل - اس خبر کا ذکر جو اس دعوے کو رد کرتا ہے کہ جب میت کو قبر میں رکھا جاتا ہے تو اس کا کوئی حصہ حرکت نہیں کرتا جب تک وہ گل نہ جائے
حدیث نمبر: 3113
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَمْرٍو ، يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ الْمَيِّتَ إِذَا وُضِعَ فِي قَبْرِهِ إِنَّهُ يَسْمَعُ خَفْقَ نِعَالِهِمْ حِينَ يُوَلُّونَ عَنْهُ ، فَإِنْ كَانَ مُؤْمِنًا ، كَانَتِ الصَّلاةُ عِنْدَ رَأْسِهِ ، وَكَانَ الصِّيَامُ عَنْ يَمِينِهِ ، وَكَانَتِ الزَّكَاةُ عَنْ شِمَالِهِ ، وَكَانَ فِعْلُ الْخَيْرَاتِ مِنَ الصَّدَقَةِ وَالصِّلَةِ وَالْمَعْرُوفِ وَالإِحْسَانِ إِلَى النَّاسِ : عِنْدَ رِجْلَيْهِ ، فَيُؤْتَى مِنْ قِبَلِ رَأْسِهِ ، فَتَقُولُ الصَّلاةُ : مَا قِبَلِي مَدْخَلٌ ، ثُمَّ يُؤْتَى عَنْ يَمِينِهِ ، فَيَقُولُ الصِّيَامُ : مَا قِبَلِي مَدْخَلٌ ، ثُمَّ يُؤْتَى عَنْ يَسَارِهِ ، فَتَقُولُ الزَّكَاةُ : مَا قِبَلِي مَدْخَلٌ ، ثُمَّ يُؤْتِي مِنْ قِبَلِ رِجْلَيْهِ ، فَتَقُولُ فَعَلُ الْخَيْرَاتِ مِنَ الصَّدَقَةِ وَالصِّلَةِ وَالْمَعْرُوفِ وَالإِحْسَانِ إِلَى النَّاسِ : مَا قِبَلِي مَدْخَلٌ ، فَيُقَالُ لَهُ : اجْلِسْ فَيَجْلِسُ ، وَقَدْ مُثِّلَتْ لَهُ الشَّمْسُ وَقَدْ أُدْنِيَتْ لِلْغُرُوبِ ، فَيُقَالُ لَهُ : أَرَأَيْتَكَ هَذَا الرَّجُلَ الَّذِي كَانَ فِيكُمْ مَا تَقُولُ فِيهِ ، وَمَاذَا تَشَهَّدُ بِهِ عَلَيْهِ ؟ فَيَقُولُ : دَعُونِي حَتَّى أُصَلِّيَ ، فَيَقُولُونَ : إِنَّكَ سَتَفْعَلُ ، أَخْبَرَنِي عَمَّا نَسْأَلُكُ عَنْهُ ، أَرَأَيْتَكَ هَذَا الرَّجُلَ الَّذِي كَانَ فِيكُمْ مَا تَقُولُ فِيهِ ، وَمَاذَا تَشَهَّدُ عَلَيْهِ ؟ قَالَ : فَيَقُولُ : مُحَمَّدٌ أَشْهَدُ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ ، وَأَنَّهُ جَاءَ بِالْحَقِّ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ ، فَيُقَالُ لَهُ : عَلَى ذَلِكَ حَيِيتَ وَعَلَى ذَلِكَ مِتَّ ، وَعَلَى ذَلِكَ تُبْعَثُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ ، ثُمَّ يُفْتَحُ لَهُ بَابٌ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ ، فَيُقَالُ لَهُ : هَذَا مَقْعَدُكَ مِنْهَا ، وَمَا أَعَدَّ اللَّهُ لَكَ فِيهَا ، فَيَزْدَادُ غِبْطَةً وَسُرُورًا ، ثُمَّ يُفْتَحُ لَهُ بَابٌ مِنْ أَبْوَابِ النَّارِ ، فَيُقَالُ لَهُ : هَذَا مَقْعَدُكَ مِنْهَا وَمَا أَعَدَّ اللَّهُ لَكَ فِيهَا لَوْ عَصَيْتَهُ ، فَيَزْدَادُ غِبْطَةً وَسُرُورًا ، ثُمَّ يُفْسَحُ لَهُ فِي قَبْرِهِ سَبْعُونَ ذِرَاعًا ، وَيُنَوَّرُ لَهُ فِيهِ ، وَيُعَادُ الْجَسَدُ لِمَا بَدَأَ مِنْهُ ، فَتَجْعَلُ نَسْمَتُهُ فِي النَّسَمِ الطِّيِّبِ وَهِيَ طَيْرٌ يَعْلُقُ فِي شَجَرِ الْجَنَّةِ ، قَالَ : فَذَلِكَ قَوْلُهُ تَعَالَى : يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الآخِرَةِ سورة إبراهيم آية 27 إِلَى آخِرِ الآيَةِ " ، قَالَ : " وَإِنَّ الْكَافِرَ إِذَا أُتِيَ مِنْ قِبَلِ رَأْسِهِ ، لَمْ يُوجَدْ شَيْءٌ ، ثُمَّ أُتِيَ عَنْ يَمِينِهِ ، فَلا يُوجَدُ شَيْءٌ ، ثُمَّ أُتِيَ عَنْ شِمَالِهِ ، فَلا يُوجَدُ شَيْءٌ ، ثُمَّ أُتِيَ مِنْ قِبَلِ رِجْلَيْهِ ، فَلا يُوجَدُ شَيْءٌ ، فَيُقَالُ لَهُ : اجْلِسْ ، فَيَجْلِسُ خَائِفًا مَرْعُوبًا ، فَيُقَالُ لَهُ : أَرَأَيْتَكَ هَذَا الرَّجُلَ الَّذِي كَانَ فِيكُمْ مَاذَا تَقُولُ فِيهِ ؟ وَمَاذَا تَشَهَّدُ بِهِ عَلَيْهِ ؟ فَيَقُولُ : أَيُّ رَجُلٍ ؟ فَيُقَالُ : الَّذِي كَانَ فِيكُمْ ، فَلا يَهْتَدِي لاسْمِهِ حَتَّى يُقَالَ لَهُ : مُحَمَّدٌ ، فَيَقُولُ : مَا أَدْرِي ، سَمِعْتُ النَّاسَ قَالُوا قَوْلا ، فَقُلْتُ كَمَا قَالَ النَّاسُ ، فَيُقَالُ لَهُ : عَلَى ذَلِكَ حَيِيتَ ، وَعَلَى ذَلِكَ مِتَّ ، وَعَلَى ذَلِكَ تُبْعَثُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ ، ثُمَّ يُفْتَحُ لَهُ بَابٌ مِنْ أَبْوَابِ النَّارِ ، فَيُقَالُ لَهُ : هَذَا مَقْعَدُكَ مِنَ النَّارِ ، وَمَا أَعَدَّ اللَّهُ لَكَ فِيهَا ، فَيَزْدَادُ حَسْرَةً وَثُبُورًا ، ثُمَّ يُفْتَحُ لَهُ بَابٌ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ ، فَيُقَالُ لَهُ : ذَلِكَ مَقْعَدُكَ مِنَ الْجَنَّةِ ، وَمَا أَعَدَّ اللَّهُ لَكَ فِيهِ لَوْ أَطَعْتَهُ فَيَزْدَادُ حَسْرَةً وَثُبُورًا ، ثُمَّ يُضَيَّقُ عَلَيْهِ قَبْرُهُ حَتَّى تَخْتَلِفَ فِيهِ أَضْلاعُهُ ، فَتِلْكَ الْمَعِيشَةُ الضَّنْكَةُ الَّتِي قَالَ اللَّهُ : فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنْكًا وَنَحْشُرُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْمَى سورة طه آية 124 " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” جب میت کو قبر میں رکھ دیا جاتا ہے، تو وہ لوگوں کے جوتے کی چاپ بھی سنتا ہے، یہاں تک کہ لوگ اسے چھوڑ کر چلے جاتے ہیں اگر وہ شخص مومن ہوتا ہے، تو نماز اس کے سرہانے آ جاتی ہے اور روزہ اس کے دائیں طرف ہوتا ہے، زکوۃ اس کے بائیں طرف ہوتی ہے اور صدقہ و خیرات، صلہ رحمی، بھلائی، لوگوں کے ساتھ احسان وغیرہ کرنے جیسی نیکیاں اس کے پاؤں کے پاس آتی ہیں (فرشتے) اس کے سر کی طرف سے آنے کی کوشش کرتے ہیں، تو نماز کہتی ہے تم میری طرف سے داخل نہیں ہو سکتے پھر وہ اس کے بائیں طرف سے آتے ہیں، تو روزہ کہتا ہے تم میری طرف سے داخل نہیں ہو سکتے پھر وہ اس کے بائیں طرف سے آنے کی کوشش کرتے ہیں، تو زکوۃ کہتی ہے میری طرف سے داخل نہیں ہو سکتے پھر وہ اس کے پاؤں کی طرف سے آتے ہیں، تو صدقہ، صلہ رحمی، بھلائی اور لوگوں کے ساتھ احسان جیسی نیکیاں یہ کہتی ہیں: ہماری طرف سے داخل نہیں ہو سکتے پھر اس میت سے یہ کہا: جاتا ہے: تم بیٹھ جاؤ وہ بیٹھ جاتا ہے اسے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے سورج غروب ہونے کے قریب ہے اس سے دریافت کیا جاتا ہے: ان صاحب کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے، جو تمہارے درمیان موجود تھے تم ان کے بارے میں کیا کہتے ہو اور تم ان کے بارے میں کیا گواہی دیتے ہو وہ کہتا ہے تم لوگ مجھے موقع دو، تاکہ میں نماز ادا کر لوں، تو فرشتے کہتے ہیں، تم ایسا کر لو گے تم مجھے اس چیز کے بارے میں بتاؤ جس کے بارے میں ہم نے دریافت کیا ہے: یہ صاحب جو تمہارے درمیان موجود تھے ان کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے تم ان کے بارے میں کیا کہتے ہو اور تم ان کے بارے میں کیا گواہی دیتے ہو۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: وہ شخص کہتا ہے یہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں میں یہ گواہی دیتا ہوں کہ یہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور یہاللہ تعالیٰ کی طرف سے حق لے کر آئے تھے، تو اس سے کہا: جاتا ہے: تم اسی اعتقاد پر زندہ رہے اور اسی اعتقاد پر تم نے انتقال کیا اور اسی اعتقاد پر تمہیں زندہ کیا جائے گا اگر اللہ نے چاہا پھر اس شخص کے لیے جنت کا ایک دروازہ کھولا جاتا ہے اور اس سے کہا: جاتا ہے: یہ تمہارا جنت کا ٹھکانہ ہے اور وہ چیز ہے، جو جنت میںاللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے تیار کی ہے، تو اس شخص کے رشک اور سرور میں اضافہ ہو جاتا ہے پھر اس کے سامنے جہنم کا دروازہ کھولا جاتا ہے اور اس سے کہا: جاتا ہے: اگر تم اس (رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی) نافرمانی کرتے، تو تمہارا ٹھکانہ یہ ہونا تھا اور اس میںاللہ تعالیٰ نے ان چیزوں کو تمہارے لیے تیار رکھنا تھا، تو اس شخص کے رشک اور سرور میں اضافہ ہو جاتا ہے پھر اس کے لیے ستر بالشت تک قبر کو کشادہ کر دیا جاتا ہے اور اس کے لیے قبر میں روشنی کر دی جاتی ہے اس کے جسم کو اسی حالت میں لوٹا دیا جاتا ہے، جس سے اس کا آغاز ہوا تھا اور پھر اس کو پاکیزہ جسم میں رکھ دیا جاتا ہے، جو ایک پرندے کی شکل میں ہوتا ہے، جو جنت کے درخت سے لٹکا ہوا ہوتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے یہی مراد ہے۔ ”اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو ثابت قول پر دنیاوی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی ثابت قدم رکھتا ہے “ یہ آیت آخر تک ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: جب کافر شخص کے سرہانے کی طرف سے آیا جاتا ہے (یعنی فرشتہ اس کے پاس آنے کی کوشش کرتا ہے)، تو وہاں کوئی چیز نہیں ہوتی پھر دائیں طرف سے آیا جاتا ہے، تو وہاں بھی کوئی چیز نہیں ہوتی پھر بائیں طرف سے آیا جاتا ہے، تو وہاں بھی کوئی چیز نہیں ہوتی پھر پاؤں کی طرف سے آیا جاتا ہے، تو وہاں بھی کچھ نہیں ہوتا، تو اس سے کہا: جاتا ہے: تم بیٹھ جاؤ، تو وہ خوف زدہ اور مرعوب ہو کر بیٹھ جاتا ہے اس سے کہا: جاتا ہے: ان صاحب کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے؟ جو تمہارے درمیان موجود تھے تم ان کے بارے میں کیا کہتے ہو اور تم اس کے بارے میں کس بات کی گواہی دیتے ہو، تو وہ دریافت کرتا ہے کون سے صاحب؟ تو اس سے کہا: جاتا ہے: وہ جو تمہارے درمیان تھے، لیکن اسے ان کے نام کے بارے میں نہیں بتایا جاتا، یہاں تک کہ اسے کہا: جاتا ہے: ہم سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم (کے بارے میں پوچھ رہے ہیں)، تو وہ شخص کہتا ہے مجھے نہیں معلوم میں نے لوگوں کو ایک بات کہتے ہوئے سنا تھا، تو میں نے بھی وہی بات کہہ دی جو لوگ کہتے تھے، تو اس سے کہا: جاتا ہے: تم اسی اعتقاد پر زندہ رہے اور اسی اعتقاد پر مرے اور اگر اللہ نے چاہا، تو اسی اعتقاد پر زندہ ہو گے پھر اس کے لیے جہنم کا ایک دروازہ کھولا جاتا ہے اور اس سے کہا: جاتا ہے: یہ جہنم میں تمہارا ٹھکانہ ہے اور وہ چیز ہے، جسےاللہ تعالیٰ نے جہنم میں تمہارے لیے تیار کیا ہے، تو اس کی حسرت اور افسوس میں اضافہ ہو جاتا ہے پھر اس کے لیے جنت کا ایک دروازہ کھولا جاتا ہے اور یہ کہا: جاتا ہے، اگر تم اس (رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی) بات مان لیتے، تو یہ جنت تمہارا ٹھکانہ ہونی تھی اور، اس میںاللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے جو کچھ تیار کیا ہے وہ تمہیں ملنا تھا، تو اس کی حسرت اور افسوس میں اضافہ ہو جاتا ہے پھر اس کے لیے قبر کو تنگ کیا جاتا ہے، یہاں تک کہ اس کی پسلیاں ایک دوسرے میں پیوست ہو جاتی ہیں یہ وہ گھٹن والی زندگی ہے، جس کے بارے میںاللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے: ” بے شک اس کے لیے گھٹن والی زندگی ہے اور ہم قیامت کے دن اسے نابینا ہونے کے طور پر اٹھائیں گے۔ “
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا / حدیث: 3113
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن - «التعليق الرغيب» (4/ 188 - 189)، «أحكام الجنائز» (198 - 202). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن من أجل محمد بن عمرو
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 3103»