کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: تدفین کا بیان - اس خبر کے لفظ کی تفصیل کا ذکر جو ہم نے بیان کیا
حدیث نمبر: 3108
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ الْقَطَّانُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لابْنِ آدَمَ ثَلاثَةٌ أَخِلاءُ : أَمَّا خَلِيلٌ ، فَيَقُولُ : مَا أَنْفَقَتْ فَلَكَ ، وَمَا أَمْسَكَتْ فَلَيْسَ لَكَ ، فَهَذَا مَالُهُ ، وَأَمَّا خَلِيلٌ فَيَقُولُ : أَنَا مَعَكَ فَإِذَا أَتَيْتَ بَابَ الْمَلِكِ تَرَكْتُكَ وَرَجَعْتُ ، فَذَلِكَ أَهْلُهُ وَحَشَمُهُ ، وَأَمَّا خَلِيلٌ ، فَيَقُولُ : أَنَا مَعَكَ حَيْثُ دَخَلْتَ وَحَيْثُ خَرَجْتَ ، فَهَذَا عَمَلُهُ ، فَيَقُولُ : أَنْ كُنْتَ لأَهْوَنَ الثَّلاثَةِ عَلَيَّ " .
سیدنا انس بن مالک رضی الله عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” ابن آدم کے تین دوست ہیں جہاں تک ایک دوست کا تعلق ہے، تو وہ یہ کہتا ہے تم جو خرچ کرو گے اس کا تمہیں اجر مل جائے گا اور جو تم خرچ نہیں کرو گے اس کا تمہیں کچھ نہیں ملے گا یہ اس کا مال ہے ایک دوست یہ کہتا ہے میں تمہارے ساتھ ہوں جب تم بادشاہ (یعنی خالق حقیقی) کے دروازے پر آؤ گے (یعنی جب تم مر جاؤ گے)، تو میں تمہیں چھوڑ دوں گا اور واپس آ جاؤں گا یہ اس کے اہل خانہ اور جاہ و حشم ہیں اور ایک دوست یہ کہتا ہے میں تمہارے ساتھ ہوں تم جہاں بھی داخل ہو گے اور جہاں سے نکلو گے یہ اس کا عمل ہے، تو وہ بندہ یہ کہتا ہے تم، تو میرے نزدیک ان تینوں میں سب سے کم حیثیت کے مالک تھے۔ “
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا / حدیث: 3108
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن صحيح - «الصحيحة» (3299). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناد حسن
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 3098»