کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: تدفین کا بیان - اس بات کی خصوصیات کا ذکر جو میت کے جنازہ کے ساتھ جاتی ہیں اور جو اس سے واپس آتی ہیں اور جو اس کے ساتھ رہتی ہیں
حدیث نمبر: 3107
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ بِبُسْتَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَتْبَعُ الْمَيِّتَ ثَلاثَةٌ ، فَيَرْجِعُ اثْنَانِ وَيَبْقَى وَاحِدٌ : يَتْبَعُهُ أَهْلُهُ وَمَالُهُ وَعَمَلُهُ ، فَيَرْجِعُ أَهْلُهُ وَمَالُهُ ، وَيَبْقَى عَمَلُهُ " .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” میت کے ساتھ تین چیزیں جاتی ہیں ان میں سے دو واپس آ جاتی ہیں اور ایک ساتھ رہ جاتی ہے اس کے اہل خانہ، اس کا مال اور اس کا عمل ساتھ جاتے ہیں اس کے اہل خانہ اور اس کا مال واپس آ جاتے ہیں اور اس کا عمل ساتھ رہ جاتا ہے۔ “
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا / حدیث: 3107
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (3399): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 3097»