کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: فصل: جنازے کی نماز کا بیان - اس بات کا بیان کہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے نجاشی کی وفات کی خبر لوگوں کو اسی دن دی جس دن وہ فوت ہوا
حدیث نمبر: 3101
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، وأبي سلمة ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، نَعَى النَّجَاشِيَّ يَوْمَ تُوُفِّيَ ، وَقَالَ : " اسْتَغْفِرُوا لأَخِيكُمْ " ، ثُمَّ خَرَجَ بِالنَّاسِ إِلَى الْمُصَلَّى ، فَصَفُّوا وَرَاءَهُ ، وَكَبَّرَ أَرْبَعَ تَكْبِيرَاتٍ .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نجاشی کے انتقال کی اطلاع اسی دن دے دی تھی جس دن اس کا انتقال ہوا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ اپنے بھائی کے لیے دعائے مغفرت کرو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو لے کر عیدگاہ تشریف لے گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیچھے صفیں بنوائیں اور چار تکبیریں کہیں۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا / حدیث: 3101
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر ما قبله. تنبيه!! قول الشيخ: انظر ما قبله أي الحديث رقم (3090) الموافق لـ (3098) من طبعة المؤسسة. مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 3091»
حدیث نمبر: 3102
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو قِلابَةَ ، عَنْ عَمِّهِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ : " أَنْبَأَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّ أَخَاكُمْ النَّجَاشِيَّ تُوُفِّيَ ، فَقُومُوا فَصَلُّوا عَلَيْهِ ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَصَفُّوا خَلْفَهُ ، وَكَبَّرَ أَرْبَعًا وَهُمْ لا يَظُنُّونَ إِلا أَنَّ جَنَازَتَهُ بَيْنَ يَدَيْهِ " .
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ اطلاع دی تمہارے بھائی نجاشی کا انتقال ہو گیا ہے تم لوگ اٹھو اور اس کی نماز جنازہ ادا کرو پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیچھے صفیں بنوائیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار تکبیریں کہیں لوگ یہی گمان کر رہے تھے جیسے اس کا جنازہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ہے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا / حدیث: 3102
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 3092»