کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: فصل: جنازے کی نماز کا بیان - اس متوفٰی کے نام کی کیفیت کا ذکر جس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں نماز پڑھی جبکہ وہ اپنے شہر میں تھا
حدیث نمبر: 3100
أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ بِالْبَصْرَةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، صَلَّى عَلَى النَّجَاشِيِّ ، وَكَبَّرَ عَلَيْهِ أَرْبَعًا " ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : الْعِلَّةُ فِي صَلاةِ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى النَّجَاشِيِّ ، وَهُوَ بِأَرْضِهِ ، أَنَّ النَّجَاشِيَّ أَرْضُهُ بِحِذَاءِ الْقِبْلَةِ ، وَذَاكَ أَنَّ بَلَدَ الْحَبَشَةِ إِذَا قَامَ إِنْسَانٌ بِالْمَدِينَةِ ، كَانَ وَرَاءَ الْكَعْبَةِ ، وَالْكَعْبَةُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ بِلادِ الْحَبَشَةِ ، فَإِذَا مَاتَ الْمَيِّتُ ، وَدُفِنَ ، ثُمَّ عَلِمَ الْمَرْءُ فِي بَلَدٍ آخَرَ بِمَوْتِهِ ، وَكَانَ بَلَدُ الْمَدْفُونِ بَيْنَ بَلَدِهِ وَالْكَعْبَةِ وَرَاءَ الْكَعْبَةِ ، جَازَ لَهُ الصَّلاةُ عَلَيْهِ ، فَأَمَّا مَنْ مَاتَ وَدُفِنَ فِي بَلَدٍ ، وَأَرَادَ الْمُصَلِّي عَلَيْهِ الصَّلاةَ فِي بَلَدِهِ ، وَكَانَ بَلَدُ الْمَيِّتِ وَرَاءَهُ ، فُمَسْتَحِيلٌ حِينَئِذٍ الصَّلاةُ عَلَيْهِ .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نجاشی کی نماز جنازہ ادا کی تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر چار تکبیریں کہی تھیں۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نجاشی کی نماز جنازہ ادا کرنے میں علت یہ تھی جبکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے علاقے میں موجود تھے تو نجاشی کی سرزمین قبلہ کے قریب تھی۔ اس کی وجہ یہ ہے: جب انسان مدینہ منورہ میں کھڑا ہو تو حبشہ کا شہر وہ کعبہ کے دوسری طرف ہو گا اور کعبہ، مدینہ منورہ اور حبشہ کی سرزمین کے درمیان میں ہو گا تو جب کوئی میت فوت ہو جائے اور اسے دفن کر دیا جائے پھر آدمی کو کسی دوسرے شہر میں اس کی موت کے بارے میں پتہ چلے اور مدفون شخص کا شہر آدمی کے شہر اور خانہ کعبہ کے درمیان ہو۔ یعنی خانہ کعبہ کے دوسری طرف ہو تو آدمی کے لیے اس شخص کی نماز جنازہ ادا کرنا جائز ہوتا ہے لیکن جب کوئی شخص فوت ہو کر کسی شہر میں دفن ہو جائے اور نمازی اپنے شہر میں رہتے ہوئے نماز جنازہ ادا کرنا چاہے اور میت کا شہر اس سے پیچھے کی طرف ہو تو یہ بات ناممکن ہو گی کہ اس کی نماز جنازہ ادا کی جائے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا / حدیث: 3100
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 3089»