کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: فصل: جنازے کی نماز کا بیان - اس وجہ کا ذکر جس کی بنا پر قبر پر نماز جائز ہے
حدیث نمبر: 3090
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ الدَّغَوَلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " أَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَبْرٍ مَنْبُوذٍ ، فَصَلَّى عَلَيْهِ وَصَلَّيْنَا مَعَهُ " ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : فِي هَذَا الْخَبَرِ بَيَانٌ وَاضِحٌ أَنَّ صَلاةَ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْقَبْرِ إِنَّمَا كَانَتْ عَلَى قَبْرٍ مَنْبُوذٍ ، وَالْمَنْبُوذُ نَاحِيَةٌ ، فَدَلَّتْكَ هَذِهِ اللَّفْظَةُ عَلَى أَنَّ الصَّلاةَ عَلَى الْقَبْرِ جَائِزَةٌ إِذَا كَانَ جَدِيدًا فِي نَاحِيَةٍ لَمْ تُنْبَشْ ، أَوْ فِي وَسَطِ قُبُورٍ لَمْ تُنْبَشْ ، فَأَمَّا الْقُبُورُ الَّتِي نُبِشَتْ ، وَقُلِبَ تُرَابُهَا صَارَ تُرَابُهَا نَجِسًا ، لا تَجُوزُ الصَّلاةُ عَلَى النَّجَاسَةِ إِلا أَنْ يَقُومَ الإِنْسَانُ عَلَى شَيْءٍ نَظِيفٍ ، ثُمَّ يُصَلِّي عَلَى الْقَبْرِ الْمَنْبَوشِ دُونَ الْمَنْبُوذِ الَّذِي لَمْ يَنْبِشْ .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک الگ تھلگ قبر کے پاس تشریف لائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر نماز جنازہ ادا کی ہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز جنازہ ادا کی۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:): اس روایت میں اس بات کا واضح بیان موجود ہے: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا قبر پر نماز جنازہ ادا کرنا ایک ایسی قبر کے بارے میں تھا جو ایک گوشے میں تھی۔ لفظ منبوذ کا مطلب گوشہ ہے تو یہ الفاظ آپ کی رہنمائی اس بات کی طرف کریں گے کہ قبر پر نماز جنازہ ادا کرنا جائز ہے جبکہ وہ نئی ہو اور کسی ایسے گوشے میں ہو جسے اکھاڑا نہ گیا ہو یا قبروں کے درمیان میں ہو جسے اکھاڑا نہ گیا ہو جہاں تک ان قبروں کا تعلق ہے، جنہیں اکھاڑ دیا جاتا ہے ان کی مٹی کو الٹ پلٹ دیا جاتا ہے، تو ان کی مٹی نجس ہو جاتی ہے اور نجاست والی چیز پر نماز ادا کرنا جائز نہیں ہے۔ البتہ اگر آدمی کسی پاک و صاف چیز پر کھڑا ہو اور پھر قبر پر نماز جنازہ ادا کرے وہ قبر جو اکھیڑ دی گئی ہو (تو اس کا حکم مختلف ہے) اور یہ حکم اس کے علاوہ ہے، جو کسی گوشے میں ہوتی ہے اور اکھیڑی نہیں ہوتی۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا / حدیث: 3090
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط البخاري
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 3079»