کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: فصل: جنازے کی نماز کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی دلیل ہے کہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر پر نماز کی وجہ صرف ان کی دعا نہیں تھی بلکہ امت کی دعا بھی شامل تھی
حدیث نمبر: 3087
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ الأَنْصَارِيُّ ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ عَمِّهِ يَزِيدَ بْنِ ثَابِتٍ ، وَكَانَ أَكْبَرَ مِنْ زَيْدٍ ، قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا وَرَدْنَا الْبَقِيعَ ، إِذَا هُوَ بِقَبْرٍ ، فَسَأَلَ عَنْهُ ، فَقَالُوا : فُلانَةُ ، فَعَرَفَهَا ، فَقَالَ : " أَلا آذَنْتُمُونِي بِهَا ؟ " قَالُوا : كُنْتُ قَائِلا صَائِمًا قَالَ : " فَلا تَفْعَلُوا ، لا أَعْرِفَنَّ مَا مَاتَ مِنْكُمْ مَيِّتٌ مَا كُنْتُ بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ إِلا آذَنْتُمُونِي بِهِ ، فَإِنَّ صَلاتِي عَلَيْهِ رَحْمَةٌ " قَالَ : ثُمَّ أَتَى الْقَبْرَ ، فَصَفَفْنَا خَلْفَهُ ، وَكَبَّرَ عَلَيْهِ أَرْبَعًا ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : قَدْ يَتَوَهَّمُ غَيْرُ الْمُتَبَحِّرِ فِي صِنَاعَةِ الْعِلْمِ أَنَّ الصَّلاةَ عَلَى الْقَبْرِ غَيْرُ جَائِزَةٍ لِلَّفْظَةِ الَّتِي فِي خَبَرِ أَبِي هُرَيْرَةَ : " فَإِنَّ اللَّهَ يُنَوِّرُهَا عَلَيْهِمْ رَحْمَةً بِصَلاتِي " ، وَاللَّفْظَةِ الَّتِي فِي خَبَرِ يَزِيدَ بْنِ ثَابِتٍ : " فَإِنَّ صَلاتِي عَلَيْهِمْ رَحْمَةٌ " ، وَلَيْسَتِ الْعِلَّةُ مَا يَتَوَهَّمُ الْمُتَوَهِّمُونَ فِيهِ أَنَّ إِبَاحَةَ هَذِهِ السُّنَّةِ لِلْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، خَاصَّةً دُونَ أُمَّتِهِ ، إِذَا لَوْ كَانَ ذَلِكَ لَزَجَرَهُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَنْ أَنْ يَصْطَفُّوا خَلْفَهُ ، وَيُصَلُّوا مَعَهُ عَلَى الْقَبْرِ ، فَفِي تَرْكِ إِنْكَارِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مَنْ صَلَّى عَلَى الْقَبْرِ أَبْيَنُ الْبَيَانِ لِمَنْ وَفَّقَهُ اللَّهُ لِلْرَشَادِ وَالسَّدَادِ أَنَّهُ فِعْلٌ مُبَاحٌ لَهُ وَلأُمَّتِهِ مَعًا دُونَ أَنْ يَكُونَ ذَلِكَ بِالْفِعْلِ لَهُ دُونَ أُمَّتِهِ .
سیدنا یزید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے جب ہم بقیع کے مقام پر پہنچے، تو وہاں ایک قبر موجود تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قبر کے بارے میں دریافت کیا: تو لوگوں نے بتایا: فلاں خاتون کی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس خاتون کی شناخت ہو گئی۔ آپ کی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے اس کی (وفات) کے بارے میں مجھے بتایا کیوں نہیں؟ لوگوں نے عرض کی: آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت روزے کی حالت میں آرام فرما رہے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ ایسا نہ کرو جب تک میں تمہارے درمیان موجود ہوں تم میں سے جس شخص کا بھی انتقال ہوتا ہے تم اس کے بارے میں مجھے اطلاع دو، کیونکہ میرا اس کے لیے نماز جنازہ ادا کرنا رحمت ہو گا۔ راوی بیان کرتے ہیں۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قبر پر تشریف لائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیچھے صفیں بنوائیں اور اس پر (نماز جنازہ ادا کرتے ہوئے) چار مرتبہ تکبیریں کہیں۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:): جو شخص علم حدیث میں مہارت نہیں رکھتا وہ اس غلط فہمی کا شکار ہوا کہ قبر پر نماز جنازہ ادا کرنا جائز نہیں ہے۔ ان الفاظ کی وجہ سے جو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول روایت میں ہیں۔ ” بے شکاللہ تعالیٰ میرے نماز جنازہ ادا کرنے کی وجہ سے ان کی قبروں کو ان کے لیے روشن کر دیتا ہے۔ “ اور ان الفاظ کی وجہ سے جو سیدنا یزید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول روایت میں ہیں ” میرا ان کی نماز جنازہ ادا کرنا رحمت ہے۔ “ حالانکہ علت وہ نہیں ہے، جو غلط فہمی کا شکار ان افراد کو غلط فہمی ہوئی کہ اس سنت کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مباح ہونا آپ کی خصوصیت ہے یا آپ کی اُمت کے لیے نہیں ہے کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو اس بات سے منع کر دیتے کہ وہ آپ کے پیچھے صفیں قائم کریں اور آپ کی اقتداء میں قبر پر نماز جنازہ ادا کریں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے پیچھے قبر پر نماز جنازہ ادا کرنے والے پر انکار نہ کرنا اس بات کا واضح بیان موجود ہے لیکن یہ اس شخص کے لیے بیان ہے جسےاللہ تعالیٰ نے ہدایت اور سیدھے راستے کی توفیق عطا کی ہو کہ یہ ایک مباح فعل ہے، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بھی مباح ہے۔ آپ کی اُمت کے لیے بھی مباح ہے۔ ایسا نہیں ہے۔ یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مباح ہو اور آپ کی اُمت کے لیے نہ ہو۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا / حدیث: 3087
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «أحكام الجنائز» (114). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 3076»