کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: فصل: جنازے کی نماز کا بیان - اس خبر کا ذکر جو علم میں غیر ماہر اور اسے غلط ذرائع سے مانگنے والے نے قبر پر نماز کی جواز کو رد کیا
حدیث نمبر: 3086
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَجُلا كَانَ يَلْتَقِطُ الأَذَى مِنَ الْمَسْجِدِ ، فَمَاتَ ، فَفَقَدَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " مَا فَعَلَ فُلانٌ ؟ " قَالُوا : مَاتَ ، قَالَ : " هَلا كُنْتُمْ آذَنْتُمُونِي بِهِ " فَكَأَنَّهُمُ اسْتَخَفُّوا شَأْنَهُ ، قَالَ لأَصْحَابِهِ : " انْطَلِقُوا ، فَدُلُّونِي عَلَى قَبْرِهِ " فَذَهَبَ فَصَلَّى عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : " إِنَّ هَذِهِ الْقُبُورَ مَمْلُوءَةٌ ظُلْمَةً عَلَى أَهْلِهَا ، وَإِنَّ اللَّهَ يُنَوِّرُهَا عَلَيْهِمْ بِصَلاتِي " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص مسجد میں صفائی کیا کرتا تھا اس کا انتقال ہو گیا ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے غیر موجود پا کر اس کے بارے میں دریافت کیا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فلاں کا کیا حال ہے؟ لوگوں نے بتایا: اس کا انتقال ہو گیا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگوں نے مجھے اطلاع کیوں نہیں دی؟ لوگوں نے اس کے معاملے کو کم تر سمجھا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا: تم لوگ چلو اور اس کی قبر کی طرف میری رہنمائی کرو پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کی نماز جنازہ ادا کی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ قبریں اپنے اہل کے لیے تاریک ہوتی ہیں، تو میرے ان پر نماز جنازہ ادا کرنے کی وجہ سےاللہ تعالیٰ ان کے لیے انہیں روشن کر دیتا ہے۔