کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: فصل: جنازے کی نماز کا بیان - اس بات کا ذکر کہ اللہ جل وعلا میت کے گناہ معاف کرتا ہے اگر اس پر چالیس شفاعت کرنے والے نماز پڑھیں
حدیث نمبر: 3082
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى الْمِصْرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو صَخْرٍ حُمَيْدُ بْنُ زِيَادٍ ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ مَاتَ ابْنٌ لَهُ بِقُدَيْدٍ ، أَوْ بِعُسْفَانَ ، فَقَالَ : يَا كُرَيْبُ ، انْظُرْ مَا اجْتَمَعَ لَهُ مِنَ النَّاسِ قَالَ : فَخَرَجْتُ ، فَإِذَا نَاسٌ قَدِ اجْتَمَعُوا ، فَأَخْبَرْتُهُ ، فَقَالَ : يَكُونُونَ أَرْبَعِينَ ؟ قَالَ : قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : اخْرُجُوا بِهِ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَمُوتُ فَيَقُومُ عَلَى جَنَازَتِهِ أَرْبَعُونَ رَجُلا لا يُشْرِكُونَ بِاللَّهِ شَيْئًا إِلا شَفَّعَهُمُ اللَّهُ فِيهِ " .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات منقول ہے۔ ان کے ایک بیٹے کا قدید یا شاید عسفان کے مقام پر انتقال ہو گیا، تو انہوں نے فرمایا: اے کریب تم اس بات کا جائزہ لو کہ اس کی نماز جنازہ کے لیے کتنے لوگ اکٹھے ہو چکے ہیں۔ راوی کہتے ہیں: میں باہر نکلا وہاں کچھ لوگ اکٹھے ہو چکے تھے میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو اس بارے میں بتایا، تو انہوں نے دریافت کیا: کیا چالیس لوگ ہیں؟ میں نے جواب دیا: جی ہاں، تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اس کی میت کو باہر نکالو، کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ” جس مسلمان کا انتقال ہو جائے اور اس کی نماز جنازہ چالیس ایسے افراد ادا کریں جو کسی کو اللہ کا شریک نہ ٹھہراتے ہوں، تواللہ تعالیٰ اس میت کے بارے میں ان لوگوں کی شفاعت کو قبول کرتا ہے۔ “
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا / حدیث: 3082
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الأحكام» (127). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن على شرط مسلم
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 3071»